تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 515

ہے یا مجھے بتا تو سہی اس شخص کا حال جو قومی خدمت کا منکر ہے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہنا چاہیے کہ اس کے اندر قومی جذبہ نہیں پایا جاتا یا قومی خدمت کا احساس اس کے دل میں نہیں پایا جاتا۔اَلْکُفرُمِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ کا مطلب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ۔(مؤطا کتاب الفرائض باب لایرث المسلم الکافر) کفر ایک ملت ہے۔یہاں مِلَّۃ کے معنے شریعت کے نہیں ہو سکتے کیونکہ جتنی قومیں کفر سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کی کوئی ایک شریعت نہیں۔یہودی کتنے خرابی میں مبتلا ہیں کس قدر گمراہی ان میں پائی جاتی ہے مگر وہ ایک خدا کے قائل ہیں اس کے مقابلہ میں عیسائی بھی کافر ہیں مگر وہ توحید کے مسئلہ کے متعلق جو تمام مسائل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے ان سے اختلاف رکھتے ہیں اور حضرت مسیحؑ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ خدا کا بیٹا تھا اور خدا نے حضرت مریم ؑکو اپنے بیٹے کی پیدائش کے لئے بطور آلہ کے استعمال کیا۔پھر عیسائیوں کے بعض فرقے ایسے ہیں جو حضرت مریم کو ایک رنگ میں خدا تعالیٰ کی بیوی تسلیم کرتے اور ان کی پرستش کرتے ہیں۔چنانچہ کئی آرتھوڈکس فرقے حضرت مریم کو اسی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔اب دیکھو کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں ہی جو ایک کڑی کے دو سلسلے ہیں کس قدر اختلاف پایا جاتا ہے۔پھر زرتشتی ہیں ان کی شریعت بالکل الگ ہے۔یہود کے نزدیک خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی علامت اس دنیا کے انعامات ہیں لیکن زرتشتی اصل انعام کا وقت مرنے کے بعد کے زمانہ کو سمجھتے ہیں۔چنانچہ بائبل اور انجیل کو غور سے پڑھ کر دیکھ لو ان میں جزا و سزاکودنیا سے مخصوص قرار دیا گیا ہے یا کم سے کم دنیوی جزا و سزا پر بہت زور دیا گیا ہے۔مگرزرتشتی تعلیم کو دیکھو تو وہ اگلے جہان سے تمام انعامات کو وابستہ قرار دیتی ہے۔ژند اور اوستا میں سارا زور مرنے کے بعد کی زندگی پر ہے اور بار بار بتایا گیا ہے کہ وہاں گناہ گاروں کے لئے دوزخ اور نیک لوگوں کے لئے جنت ہو گی۔گویا زرتشتی تعلیم کو پڑھو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اور ژند و اوستا کی تعلیم اس بارہ میں ایک ہی ہےجہاں تفصیلات شریعت میں قرآن کریم کے ساتھ یہودی تعلیمیں ملتی ہیں وہاں بعث بعد الموت کے معاملہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ ہی نظر نہیں آتا۔بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور ژند و اوستا دونوں ایک منبع سے نکلی ہیں۔پھر ہندو تعلیم لے لو تو اس کا کوئی جو ڑ یہودی تعلیم یا زرتشتی تعلیم کے ساتھ نہیں۔ان کی ساری بنیاد اس بات پر ہے کہ نسلی طور پر بعض قوموں کو بعض قوموں پر فوقیت حاصل ہو تی ہے اورخدا اپنا سارا انعام ان کے ذریعہ ظاہر کرتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ یہودی قوم میں بھی نسلی تفوّق کا اظہار کیا گیا ہے مگر دوسری قوموں کے خلاف اس میں وہ رنگ نہیں جو ہندو تعلیم میں پایا جاتا