تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 516
ہے۔یہ نہیں کہ وہ ان کو غلام بنا کر رکھیں اور ان سے اچھوتوں کا سا سلوک کریں۔مگر ہندو قوم میں ساری بنیاد نسلی تفوّق پر ہے۔پھر تناسخ کو لے لو تو یہودیوں میں تناسخ کا کوئی ذکر ہی نہیں عیسائیوں میں بھی تناسخ کا کوئی ذکر نہیں ژند اور اوستا میں بھی تناسخ کا کوئی ذکر نہیں۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ کہ کفرایک ملت ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ان کی عبادت ایک ہے یا ان کے عقیدے ایک ہیں یا ان کی کتاب ایک ہے۔کیونکہ ہمیں صریح طور پر نظر آتا ہے کہ ان کی عبادتیں الگ الگ ہیں ان کے عقیدے الگ الگ ہیں ان کی کتابیں الگ الگ ہیں پس مِلَّۃ کے معنے اس حدیث میں شریعت کے ہو ہی نہیں سکتےبلکہ اس حدیث میں مِلَّۃ کے معنے جتھے اور جماعت کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ۱سلام کے سوا جس قدر مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ سارے کے سارے اسلام کے مقابلہ میں جتھہ بن جاتے ہیں اس لئے ہمیشہ ان سے ہوشیار رہنا اور یہ نہ سمجھنا کہ فلاں ہندو ہے اور فلاں عیسائی، فلاں یہودی ہے اور فلاں پارسی۔جب اسلام کا مقابلہ ہو گا یہ سارے کے سارے متحد ہوجائیں گے۔چنانچہ گذشتہ تیرہ۱۳ سو سال کی تاریخ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی صداقت کا ایک بیّن ثبوت ہے۔مسلمان حکمرانوں نے اپنے عہد حکومت میں یہودیو ں سے اس قدر حسن سلوک کیا کہ اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔بڑے بڑے عہدوں پر ان کو فائز کیا مگر انہوں نے آخر مسلمانوں کے خلاف ہی تلوار چلائی۔ہندوؤں کے ساتھ مغل بادشاہوں نے کیا کیا حسن سلوک کیا مگر ہندو آخر مسلمانوں کےہی دشمن ہوئے۔سکھوں کو دیکھ لو ان کی موجودہ ریاستوں میں سے اکثر مسلمانوں کی ہی دی ہوئی ہیں۔سکھوں کی حکومت احمد شاہ ابدالی نے بنائی۔ان کے گوردواروں کی جائدادیں اکثر مسلمانوں کی دی ہوئی ہیں۔لیکن وہ ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کےساتھ مل جاتے ہیں۔یہی حال پارسیوں کا ہے پس اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ کا یہ مفہوم نہیں کہ ان کی شریعت ایک ہے بلکہ اس میں ان کی قومی شیرازہ بندی اور جتھہ بندی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ وہ اسلام کے خلاف ہمیشہ متحد ہوتے رہیں گے۔غرض مِلَّــۃٌ میں دین کے علاوہ قومی شیرازہ بندی بھی شامل ہے اور میں نے بتایا ہے کہ خدمت اور احسا س قومی اس کا ایک حصہ ہے۔پس جب ہم مِلَّۃٌ کےمعنے کریں تو اس میں شریعت کی طرف اشارہ نہیں ہو گا بلکہ قومی جتھہ بندی کی طرف اشارہ ہو گا اور اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ کے ساتویں معنے یہ ہو ں گے کہ قومی تعصب اور قومی جتھہ بندی کا کون منکر ہے جو شخص اس کا منکر ہو گا وہ ہمیشہ خرابی کی طرف جائے گا۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ بعض دفعہ بہتر سے بہتر لفظ بھی غلط معنوں میں استعمال ہو نے لگتا ہے۔مجھے یاد ہے