تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 514

اس سے رحم کی استدعا کرتا ہے وہ اسے معاف کر دیتا ہے اور کہتا ہے جاؤ ہم نے تمہیں معاف کیا مگر توبہ بہرحال سچی ہونی چاہیے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ۔(بنی اسـرآءیل:۲۱) ہماری بادشاہت تو یہ ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ابو جہل کو بھی رزق دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا سورج چڑھتا ہے تو جیسے ایک مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے ویسے ہی ایک کافر بھی اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔یہ وہ ہستی ہے جس کی نقل کرنے کے بعدہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم غلطی کر رہے ہیں۔پس عبادت الٰہیہ کے معنے صرف سجدہ اور رکوع کرنے کے نہیں بلکہ اپنے سامنے ایک اعلیٰ درجہ کا نمونہ رکھ کر عبادت کرنے کے ہیں۔جو اس نمونہ کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے وہ نہایت اعلیٰ درجہ کی زندگی بسر کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی ذات کو اپنے لئے نمونہ بنائے گا اس کا عمل اور نمونہ دوسرے سب لوگوں سے اچھا ہو گا۔دین کے ساتویں معنے ملّۃ کے (۷) دین کے ایک معنے جیسا کہ میں نے بتایا تھا مِلَّۃ کے ہوتے ہیں۔مِلَّۃ کے دو معنے ہیں جس کی وجہ سے میں نے اس کو دو۲ حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ایک شریعت اور مذہب کے معنے۔دوسرے قومیت کے۔دین اور مِلّۃ میں فرق دین اور مِلَّۃ میں یہ فرق ہوتا ہے کہ دینُ اللہ تو ہم کہہ سکتے ہیں لیکن مِلَّۃُ اللہ نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ شریعت تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے مگر خدا کسی قومیت میں شامل نہیں وہ قوموں سے بالا ہے۔اس لئے مِلَّۃ کے لفظ کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کر تے۔مِلَّۃ کا لفظ دین کی نسبت ان معنوں میں وسیع ہے کہ ہر دین شریعت کے لحاظ سے مِلَّۃ میںشامل ہے لیکن ہر مِلَّۃ کے مفہوم میں دین شامل نہیں لیکن دین میں ایک اور معنے بھی پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مِلَّۃ کے اس حصہ کے مشابہ ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ دین کے معنے خدمت کے بھی ہیں چنانچہ کہتے ہیں دَانَ الْقَوْمَ: خَدَمَھُمْ یعنی دَانَ الْقَوْمَ کے ایک معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس نے قوم کی خدمت کی۔پس چونکہ اس آیت سےاگلی آیت فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ہے۔اس لئے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس جگہ دین کے معنوں میں قومی خدمت بھی شامل ہے۔یتیم اس شخص کا تعلق دار نہیں ہو تا اور نہ مسکین اس کا تعلق دار ہو تا ہے نہ قوم میں حسن سلوک کا مادہ پیدا کرنا جس کا وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ میں ذکر آ تا ہے انسان کا شخصی معاملہ ہے۔بلکہ یہ سارے اعمال قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔یتامیٰ و مساکین سے حسن سلوک بھی قوم سے تعلق رکھتا ہے اور قوم سے حسن سلوک بھی قوم کی خدمت ہے۔پس اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ کے ایک معنے یہ ہوں گے کہ کیا توبتا سکتا