تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 47

اس کی کیا شان ہے یا تمہارے دوستوں کے لئے اس کی کیا شان ہے یا تمہارے دشمنوں کے لئے اس کی کیا شان ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو صورتوں میں الہام نازل ہوتا ہے۔ایک الہام ان فقرات کی صورت میں نازل ہوتا ہے جو جبریل کی زبان سے بندہ سنتا ہے اور ایک الہام خود جبریل کی شکل میں ہوتا ہے۔اگر وہ ایک مہیب اور خوفناک شکل میں آسمان اور زمین کے درمیان ایک بہت بڑی کرسی پر بیٹھا ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آیا تو اس کے معنے یہ تھے کہ وہ کلام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والا ہے اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اب ساری زمین پر قضاء جاری کرنے والا ہے۔ساری دنیا کی قضاء اب اس کلام کے ساتھ وابستہ ہے۔وہی عمل خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہوگا جو اس کلام کے مطابق ہوگا۔اور وہ عمل جو اس کلام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسان بجالائے گا اسے ردّ کردیا جائے گا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی استمالت قلب مراد تھی اس وقت جبریل آپ کو غار حرا میں ایک خوبصورت نوجوان کی شکل میں نظر آیا اور جب صحابہؓ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ یہ جبریل ہی ہے جو تم دیکھ رہے ہو تو اس وقت جبریل ایک صحابی کی شکل میں نظر آیا تاکہ وہ خود بھی پتہ لگاسکیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو شخص باتیں کررہا تھا وہ دحیہ کلبی نہیں بلکہ جبریل ہی ہے۔غرض جبریل ہمیشہ فِیْ صُوْرَۃٍ مُّعَیَّنَۃٍ نازل ہوتا ہے نہ کہ فِی الصُّوْرَۃِ الْمُعَیَّنَۃِ اپنی ذاتی شکل و صورت میں۔پھر کہتے ہیں وَاِمَّا بِسَمَاعِ کَلَامٍ مِّنْ غَیْـرِ مُعَایَنَۃٍ کَسَمَاعِ مُوْسٰی کَلَامَ اللہِ کبھی ایساہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام تو نازل ہوتا ہے مگر جبریل اس کے ساتھ نہیں آتا۔کان میں آواز آتی ہے انسان اس آواز کو سنتا اور سمجھتا ہے مگر کوئی چیز نظر نہیں آتی۔جیسے موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔وَاِمَّا بِاِلْقَاءٍ فِی الرَّوْعِ کَمَا ذَکَرَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِیْ رَوْعِیْ اور کبھی کوئی بات بطور القاء دل میں ڈال دی جاتی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ روح القدس نے ایک بات میرے دل میں ڈالی ہے کوئی معین الفاظ نہیں تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے ہوں۔ورنہ آپ ان کا بھی ذکر فرماتے یا کہتے کہ جبریل نے مجھے آکر یوں کہا ہے۔آپ نے ان میں سے کوئی بات نہیں کہی صرف اتنا فرمایا ہے کہ اَنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِیْ رَوْعِیْ روح القدس نے میرے قلب میں فلاں بات ڈالی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات ڈال دی جاتی ہے (مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ دل کے خیال کو الہام کہہ دیا جائے بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ انسان پر ساتھ یہ انکشاف ہوتا ہے کہ جبریل یا کوئی دوسرا فرشتہ یا خدا تعالیٰ بذات خود باہر سے یہ بات میرے دل میں ڈال رہا ہے اور خود میرے دل سے یہ خیال پیدا نہیں ہورہا)۔