تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 48

وَاِمَّا بِاِلْھَامٍ نَـحْوَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِيْهِاور یا کبھی کلام الٰہیہ کا نزول الہام کے ذریعہ سے ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے اُمّ موسیٰ کی طرف وحی کی۔وَ اِمَّا بِتَسْخِیْـرٍ نَـحْوَ قَوْلِہٖ وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اور کبھی وحی تسخیر ہوتی ہے یعنی طبعی طور پر کسی چیز کی فطرت میں ایک بات پیدا کردی جاتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی۔اس جگہ وحی سے مرادوحی لفظی نہیں بلکہ وحیٔ تسخیر ہے۔وحیٔ تسخیر سے یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عربی، اردو یا انگریزی زبان میں کوئی کلام نازل ہوتا ہے۔یہ بھی مراد نہیں کہ تمثیلی زبان میں کوئی نظارہ دکھایا جاتا ہے اور یہ بھی مراد نہیں کہ جبریل بھیجا جاتا ہے۔بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض کام بعض چیزوں کی فطرت میں داخل کردیتا ہے اور وہ مجبور ہوتی ہیں کہ اسی رنگ میں کام کریں جس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو مسخر کردیا ہے۔جیسے سورج مسخر ہے، ایک مقرر منزل کی طرف چلنے پر اور زمین مسخر ہے سورج کے گرد گھومنے پر۔اسی طرح کوئی پودا پھول پیدا کرنے پر مسخر ہے۔کوئی پھل پیدا کرنے پر مسخر ہے کوئی کسی اور کام پر مسخر ہے گویا فطرت میں جو بات ودیعت کردی جائے اسے وحیٔ تسخیر کہتے ہیں۔اسی قسم کی وحی مکھی کو ہوئی ہے اَوْ بِـمَنَامٍ یا رئویا اور خواب کی حالت میں کوئی نقشہ انسان کو نظر آجاتا ہے کَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ انْقَطَعَ الْوَحْیُ وَبَقِیَتِ الْمُبَشِّـرَاتُ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی منقطع ہوگئی اور مبشرات باقی رہ گئے ہیں اور مبشرات سے مراد کیا ہے رُؤْیَا الْمُؤْمِنِ۔مومن جو سچے رؤیا دیکھتا ہے ان کو مبشرات کہا جاتا ہے۔فَالْاِلْھَامُ وَالتَّسْخِیْـرُ وَالْمَنَامُ دَلَّ عَلَیْہِ قَوْلُہٗ اِلَّا وَحْیًا۔پس الہام تسخیر اور منام پر قرآن کریم کی آیت میں اِلَّا وَحْیًا کے جو لفظ استعمال ہوئے ہیں وہ دلالت کرتے ہیں وَسَـمَاعُ الْکَلَامِ غَیْـرَ مُعَائِنَۃٍ دَلَّ عَلَیْہِ قَوْلُہٗ اَوْمِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ۔اور وہ کلام جس کی کانوں میں تو آواز آتی ہے مگر کوئی شکل نظر نہیں آتی اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلالت کرتاہے کہ اَوَْمِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ۔وَتَبْلِیْغُ جِبْـرِیْلَ فِیْ صُوْرَۃٍ مُّعَیَّنَۃٍ دَلَّ عَلَیْہِ قَوْلُ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ۔اور وحی کی یہ صورت کہ بعض دفعہ جبریل اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہے اس پر یہ آیت شاہد ہے کہ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا یعنی اللہ تعالیٰ اس رنگ میں بھی وحی نازل کرتا ہے کہ بعض دفعہ اپنے کسی فرشتے کو بھیج دیتا ہے جو واسطہ بن کر اس کا پیغام بندے کو پہنچاتا ہے۔وحی الٰہی کے متعلق مفردات والوں کی مذکورہ بالا تشریح کے متعلق میں یہ امر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک اس میں بعض غلطیاں ہیں جو زمانہ نبوت سے بُعد کی وجہ سے ان سے ظاہر ہوئی ہیں اور جن کا اس بحث کے ضمن میں مدّ ِنظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔وحی کے معنے کرنے میں امام راغب کی تین غلطیاں سب سے پہلی اور بڑی غلطی تو یہ ہے کہ