تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 46

جسمانی نظارہ ہوتا تو انہیں بھی پتہ ہوتا کہ میںفلاں دن اور فلاںوقت اپنے دوست سے ملا تھا۔اسی طرح اگر جبریل دحیہ کلبی کی شکل میں نہ آتے بلکہ کسی اور اجنبی انسان کی شکل اختیار کرکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آجاتے، آپ سے مصافحہ بھی کرتے، باتیں بھی کرتے اور پھر چلے جاتے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ یہ جبریل تھا جو مجھ سے باتیں کرتا رہا تو صحابہؓ کے دلوںمیںیہ خیال گذرسکتا تھا کہ ہم یہ کس طرح مان لیں۔ممکن ہے کوئی اجنبی آدمی ہو اور اسے جبریل کہہ دیا گیا ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات پر ایمان رکھتے تھے اور آپ جو کچھ بھی فرماتے وہ شرح صدر کے ساتھ اس کی تصدیق کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایک یقین وہ ہوتا ہے جو تمام مادی ثبوتوں کے ساتھ ہوتا ہے اور ایک یقین وہ ہوتا ہے جو سابق یقین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی اجنبی انسان کے متعلق بھی فرما دیتے کہ ذَالِکَ جِبْـرِیْلُ۔وہ جبریل تھا جو میرے پاس آیا تو چونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات پر یقین رکھتے تھے وہ اسے بھی مان لیتے مگر دحیہ کلبی کی صورت میںجبریل کا آنا اور پھر صحابہؓ کا خود دحیہ کلبی سے پوچھ کر تسلی کرسکنا کہ بتائو تم تو کل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہیں آئے تھے اور اس کا انکار کرنا ایک ایسا یقین تھا جو صرف سابق ایمان کی وجہ سے ان کو حاصل نہیں ہوسکتا تھا بلکہ یہ ایک زائد ثبوت تھا اس بات کا کہ ان کے حواس بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ بالکل درست ہے۔گویا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کی تصدیق کرسکتے تھے اس وجہ سے بھی کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کہتے ہیں اس لئے ٹھیک ہے اور اس وجہ سے بھی کہ چونکہ ہمارے اپنے حواس بھی اس کی سچائی کی شہادت دیتے ہیں اس لئے یہ ٹھیک ہے اور اس وجہ سے بھی کہ چونکہ دحیہ کلبی بھی تصدیق کرتا ہے اس لئے یہ ٹھیک ہے۔غرض تینوں مقامات پر تین الگ الگ مقاصد کے ماتحت جبریل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہوا۔بعض لوگ اسلام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ تم کہتے ہو اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے کیا اس کی زبان ہے جس سے وہ بولتا ہے۔ہم کہتے ہیں اس کی زبان تو نہیں مگر اس میں قدرت موجود ہے اور وہ اپنی قدرت سے بغیر زبان کے کلام پیدا کردیتا ہے۔یہی حال جبریل کا ہے وہ ملک ہے مگر ہر موقع کے مناسب حال مختلف شکلیں بدل لیتا ہے۔کبھی ماں کی شکل اختیارکرلیتا ہے، کبھی بیٹی کی شکل اختیار کرلیتا ہے، کبھی بیٹے کی شکل اختیار کرلیتا ہے، کبھی بیوی کی شکل اختیار کرلیتا ہے، کبھی مرد کی شکل اختیار کرلیتا ہے، کبھی انسانی شکل کے علاوہ کبوتر یا کسی اور جانور کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔اور شکلوں کے اس اختلاف سے یہ بیان کرنا مقصود ہوتا ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا جو کلام نازل ہورہا ہے