تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 499

مرکب ہوں گے ان میں طاقت اور قوت کے معنے پائے جائیں گے۔یہ ایک ایسا عجیب مضمون ہے کہ اس سے سینکڑوں معانی قرآن کریم کے اور سینکڑوں معانی احادیث کے میں نے نئے نکالے ہیں۔افسوس ہے کہ آخری زمانہ میں عربوں میں سے بھی یہ مضمون مٹ گیا تھا۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عربی زبان کو اُمُّ الالسنہ ثابت کرتے ہوئے پھر اس مضمون پر روشنی ڈالی اور اس طرح روشنی ڈالی ہے کہ ہمارے لئے گویا چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ہزاروں ہزار مضامین اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولے ہیں اور وہ مضامین ایسے ہیں کہ بعض دفعہ عرب بھی ان کو سن کر حیران رہ جاتے ہیں اور وہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ باتیں کہا ں سے نکالی ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ اس علم کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے رکھی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ اس مضمون کی تکمیل فرمائی ہے۔اس کی بنیاد ابتدا ئے اسلام میں رکھی گئی تھی۔چنانچہ علامہ سکاکی نے بھی اپنی کتاب مفتاح العلوم میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔اسی طرح ابن فارس نے بھی مخصّص میں اس پر بحث کی ہے۔ابن جنّی اور ثعلبی وغیرہ نےبھی اس طرف اشارات کئے ہیں مگر ان لوگوں نے اس مضمون کو مکمل نہیں کیا صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ایک ایسے وجود ہیں جنہوں نے موجودہ زمانہ میں اس مضمون کو وسیع کیا اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔حُکْم کا لفظ جو ح ک م سے مرکب ہے یہ بھی خالی زور پر دلالت نہیں کرتا بلکہ اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ اس زور کے پیچھے کوئی معقول وجہ کام کر رہی ہو۔اسی سے حکمت کا لفظ نکلا ہے جس کے معنے فلاسفی کے ہیں گویا کوئی مقصد تھا۔کوئی غرض تھی کوئی فائدہ اور نفع مدّ ِنظر تھا جس کی وجہ سے ایک ہدایت دی گئی۔یوں ہی حُکْم کا لفظ نہیں بولیں گے اور اگر بولیں گے تو غلط ہو گا۔جیسے روٹی کو کوئی سوٹی کہہ دے تو وہ غلط ہو گا۔بہر حال ح ک م اپنے اندر حکمت کےمعنے رکھتے ہیں یعنی کام کے پیچھے کوئی غرض ہو نی چاہیے کوئی نفع بخش باعث ہو نا چاہیے یوں ہی زور اور جبر اور تشدد کے ساتھ کام نہیں لینا چا ہئے۔غرض اَلسُّلْطَانُ وَالْمُلْکُ وَ الْـحُکْمُ میں سے وہ آئینی بادشاہت بھی نکل گئی جس میں بادشاہ محض دکھاوے کی چیز ہو تا ہے کوئی طاقت اس میں نہیں ہو تی۔دستخط کے لئے کاغذات اس کے پاس بھیج دیئے جاتے ہیں اور وہ ان پر دستخط کر کے واپس کر دیتا ہےاور جب وزراء سے پو چھا جائے کہ ایسے بادشاہ کا فائدہ کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ عوام الناس الّو ہو تے ہیں ان کے لئے کوئی نہ کوئی بادشاہ بھی چاہیے جس کے ساتھ وہ چمٹے چلے جائیں ورنہ ہزاروں ہزار ایسے لوگ نکل آئیں گے جو کہیں گے کہ ہم پارلیمنٹ کی نہیں مانتے ہم بادشاہ کی بات مانیں گے۔ایسے بے وقوفوں سے چھٹکارا پا نے کے لئے بادشاہت کا ڈھونگ رچایا جا تا ہے ورنہ حقیقتاً