تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 484
میں آ جائے، سچ کی عادت اگر کسی قوم میں راسخ ہو جائے، محنت کی عادت اگر کسی قوم میں پیدا ہو جائے، قربانی اور ایثار کا مادہ اگر کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو وہ قوم ترقی کر جاتی ہے۔یہ بھی جزا و سزا ہی ہے۔چنانچہ جن قوموں میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ ان باتوں کاکوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور پیدا ہوتا ہے وہ اپنی اصلاح کر لیتی اور ترقی کر جاتی ہیں۔یورپ کی قومیں چونکہ عیسائیت کی قائل ہیں۔اس لئے وہ جزا و سزا کی منہ سے قائل ہیں مگر عملاً دہریہ ہیں آئندہ زندگی کی امید ان میں سوائے جُہّال کے یا سوائے پادریوں کے ایک خاص طبقہ کے اور کسی میں نہیں پائی جاتی۔لیکن انہوں نے تاریخ کے گہرے مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ ضرور نکال لیا ہے کہ عام طور پر لوگوں میں جو یہ خیال پایا جاتا ہے کہ بعض کام بے نتیجہ رہ جاتے ہیں یہ بالکل غلط ہے کوئی کام بے نتیجہ نہیں رہتا انفرادی کام بھی اور قومی کام بھی۔ہر کام کے نتائج آخر ضرور نکلتے ہیں۔اچھے کام کے اچھے نتائج نکلتے ہیں اور برے کام کے برے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی رضا مندی یا نا رضامند ی کی خاطر نہیں بلکہ جو قانون قدرت انہیں دنیا میں رائج نظر آتا ہے اسے دیکھتے ہوئے وہ اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ ایسا کوئی فعل نہیں جو بے جزا یا بے سزاکے رہے۔اس وجہ سے وہ قومی اخلاق پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ سچ اس لئے نہیں بولتے کہ خدا تعالیٰ خوش ہوگا وہ سچ اِس لئے نہیں بولتے کہ سچ بولنے سے جنت ملتی ہے بلکہ وہ سچ اس لئے بولتے ہیں کہ سچ کے بغیر اعتبار پیدا نہیں ہو تا اور اعتبار کے بغیر تعاون پیدا نہیں ہوتا۔یا اگر ہم سچ نہیں بو لیں گے تو غیر قوموں میں ہمارا اعتبار نہیں رہے گا اور ہماری تجارت ترقی نہیںکرے گی۔ہندوستان کی غیر ملکوں سے کروڑوں روپیہ کی تجارت تھی جو جھوٹ بولنے کی وجہ سے سب کی سب تباہ ہو گئی۔اس کے مقابلہ میں یورپ کا آدمی بھی انفرادی طور پر جھوٹ سے پرہیز نہیں کرتا ہے مگر وہ ایسا جھوٹ نہیں بولتا جو قومی نقصان کا موجب ہو۔یہاں کسی دوکان دار سے جا کر کہہ دو کہ ہمارے گھر فلاں چیز بھجوا دینا تو وہ کبھی ویسی نہیںہو گی جیسی دوکان پر جا کر دیکھی گئی تھی۔لیکن یورپ اور امریکہ میں آرڈر بھجواؤ تو چھ مہینہ یا سال کے بعد عین آرڈر کے مطابق چیز آجائے گی۔تم کبھی غیر ملکوں میں اس قسم کا تمسخر نہیں دیکھو گے جیسے ہمارے ملک میں ہو تا ہے کہ اخبارات میں اشتہار شائع کئے جاتے ہیں کہ اگر فلاں چیز کا ہمیں آرڈر دیا جائے تو ہم ایک گھڑی مفت دیں گے حالانکہ وہ چھ آنے کی گھڑی ہو تی ہے مگر نام انعام رکھا جاتا ہے جو صریح دھوکا بازی ہو تی ہے۔یا قلم وہی ہو گی جو اڑھائی آنے کی جرمنی سے آتی ہے اور اشتہار یہ دیا جا تا ہے کہ ایک فونٹن پن مفت دیا جائے گا۔یہ دھوکا اور فریب یورپ میں نہیں۔اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ قومی کیریکٹر اچھا نہ ہو تو تجارتیں نہیں چل سکتیں۔انہوں نے چونکہ غیر ملکوں میں اپنا مال بیچنا ہو تا ہے اس لئے وہ ایسی طرز پر کام کرتے ہیںکہ ان کے وقار کا سکہ بیٹھا رہتا ہے خصوصاً انگلستا ن اور