تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 485
امریکہ میں یہ بات نہایت نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔جرمنی میں ایک حصہ ایسا تھا جو فریب کاری کرتا تھا مگر عام طور پر جرمنوںمیں بھی یہ بات نہیں تھی پھر انگلستان اور امریکہ کے بعد سوئٹزر لینڈ نےبھی تجارت میں خاص طور پر ترقی کرلی ہے کوئی مال منگواؤ بالکل ویسا ہی آئے گا جیسا آرڈر دیا گیا تھا۔فرانس سے منگواؤ تو وہ نوّے فیصدی ٹھیک ہو گا لیکن ہندوستان کے کسی دوکان دار کو آرڈر دو وہ نوّے فیصدی خراب مال بھجوائے گا۔پس جزا و مکافاۃ کہ یہ معنے نہیں کہ خدا کی طرف سے جو جزا و مکافاۃ ملتی ہےبلکہ جو شخص بھی جزا و مکافاۃ پر یقین نہیں رکھےگا خواہ قومی اخلاق کے نتائج پر اس کا یقین نہ ہو گا اور خواہ خدا تعالیٰ پر ا س کا یقین نہیں ہو گا اس کا کیریکٹر ضرور خراب ہو جائے گا۔بعض احمق فلاسفر کہہ دیا کرتے ہیں کہ کسی انعام کی خاطر کام کرنا یا کسی سزا کے خوف سے کام کرنا اچھے اخلاق میں شمار نہیں ہو سکتا۔اصل میں یہ فلاسفروں کا نہیں بلکہ پادریوں کا ایک احمقانہ نظریہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتدا میں جس قدر فلسفہ یورپ میں پڑھایا جاتا تھا وہ پادریوں کے سکولوں میں ہی پڑھایا جاتا تھا۔پادری ہی پروفیسر ہوتے تھے اور تمام کالج انہی پادریوں کے ماتحت ہو تے تھے اس لئے یوروپین فلسفہ میں کئی ایسی چیزیں داخل ہو گئی ہیں جو مذہب سے رنگین ہیںجیسے ہمارے ابتدائی زمانہ کے علوم بھی بہت حد تک مذہب سے متاثر نظر آتے ہیں لغت کو لے لو، شعر کو لے لو، تفسیر کو لے لو۔سب میں مخصوص مذہبی عقائد کی جھلک پائی جائے گی۔اس لئے ہمارے علوم میں بھی کئی غلطیاں پیدا ہو گئی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے مذہب نے فلسفہ میں دخل نہیں دیا لیکن یورپ کے مذہب نے فلسفہ میں بھی دخل دیا ہے۔ہمارے مذہب نے طب میں دخل نہیں دیا لیکن یورپ کے مذہب نے طب میں بھی دخل دیا ہے۔ہاں ہمارے مذہب نے لغت میں دخل دیا ہے اور اس کا اثر لغت میں صاف طور پر نظر آتا ہے۔بعض دفعہ کسی مقام پر قرآن کریم کی لغت حل کرنے میں مشکل پیش آتی ہے اور ہم لغت دیکھتےہیں تو وہ ان معنوں کی تائید میں جن کی ہم تحقیق کر رہے ہوتے ہیں زیر بحث آیت کو ہی مثال میں پیش کر دیں گے اور اس سے تحقیق تشنہ رہ جائے گی۔یہ ایک کمزوری ہے جوعربی لغت میں پائی جاتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دے تو وہ لغت سے اس قسم کی باتوں کو ضرور نکال دے جو مذہبی عقیدہ کی وجہ سے اس میں داخل کر دی گئی ہیں۔ان باتوں کی موجودگی قرآن کریم کی خدمت نہیں بلکہ اس پر ظلم ہے۔اس لئے کہ جب کوئی شخص جھوٹا راستہ اپنے لئے نکالتا ہے تو وہ علم کے دروازہ کو بند کر دیتا ہے۔قرآن کریم تو خدا کی کتاب ہے انہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ جو کچھ خدا نے کہا ہے وہ صحیح ہے اورانہیں غور کرنا چاہیے تھا کہ اگر ان کے علم کے مطابق لغت میں اس کے کسی لفظ کے معنے نہیں ملتے تو وہ اور کوشش کریں خدا تعالیٰ ان پر ضرور کوئی راستہ تحقیق کاکھول دے گا یہ کیا کہ قرآن کریم کے کسی لفظ کے معنوںکی تلاش