تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 483
یہ بار۱۲ہ معنے سارے کے سارے اس جگہ پر چسپاں ہوتے ہیں۔لغت کے بیان کردہ تیرہ معنوں میں سے بعض کو میں نے چھوڑ دیا ہے۔مثلاً حال کے معنے میں نے چھوڑ دیئے ہیں کہ یہ لفظ شان کے لفظ سے بہت قریب معنے رکھتا ہے اور شان کے معنے میں نے لےلئے ہیں۔مِلَّۃ کے معنوںکو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہےکیونکہ اس کے دو معنے ہیں اور دونوں اس جگہ چسپاں ہوتے ہیں۔حساب کے معنوں کو بھی میں نے چھوڑ دیا ہےاس لئے کہ حساب کے معنے جزا ومکافاۃ سے ملتے ہیں اور یہ معنے میں نے لئے ہیں پس ایک بڑھ گیا اور دو چھوڑ دیئے گئے۔اوراس طرح تیرہ معنوں میں سے بارہ معنے رہ گئے۔اب میں ان معنوں کے مطابق اس آیت کی تفسیر الگ الگ بیان کرتا ہوں۔تفسیر۔دِیْن کے پہلے معنوں کے لحاظ سےآیت کے یہ معنے تھے کہ مجھے بتا تو سہی کہ جزا و سزا کا منکر کون ہےیعنی اس کے فعل کی شناعت اور برائی بڑی وسیع ہے جیسے ہم کہتے ہیں بتاؤ تو سہی یہ بات کون کہتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہو تا کہ زید کہتا ہے یا بکر۔بلکہ مطلب یہ ہو تا ہے کہ جوبھی کہتا ہے بڑی بری بات کہتا ہے۔اسی مفہوم کے مطابق اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے بتا تو سہی کہ جزا و مکافاۃ کامنکر کون ہے یعنی وہ بہت برا آدمی ہے (آگے جا کر بتائے گا کہ جزا ومکافاۃ کے انکار کا نتیجہ کیا نکلے گا) یہ یاد رکھنا چا ہیے کہ یہ بارہ باتیں جو شمار کی گئی ہیں درحقیقت یہ اصولی بدیاں ہیں اور ان کے نتیجہ میں انسان ہزاروں ہزار جزئی بدیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔گویا ان میں سے ایک ایک بدی ایسی ہے کہ جس کے اندر وہ قائم ہو جائے گی اس کے اندر اور ہزاروں بدیاں پیدا ہو جائیں گی مثلاً پہلی چیز جزا و سزا کا انکار ہے۔جب بھی جزا وسزا کا منکر کوئی انسان ہو جائے گا اسے ہر قسم کی بدیوں پر دلیری پیدا ہو جائے گی۔ہزارو ہزار نیکیاں انسان ڈر کے مارے کرتا ہے اور ہزاروں ہزار نیکیاں انسان امید کے ساتھ کرتا ہے۔جزا و سزا سے مراد اخروی جزا و سزا ہی نہیں بلکہ جزا و سزا کا سلسلہ اس دنیا میں بھی چلتا ہے اور قرآن کریم میں متواتر بیسیوں جگہ پر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اگلے جہان سے ہی جزا و سزا شروع نہیں ہو تی بلکہ اسی جگہ سے شروع ہو جاتی ہے۔انبیاء کے منکروں پر جو عذاب آتا ہے یا قانون قدرت کو توڑنے والوں کو جو سزائیں ملتی ہیں وہ اگلے جہان سے شروع نہیں ہوتیںبلکہ اسی جہان سے شروع ہو جاتی ہیں۔پس اس جگہ یہ مراد نہیں کہ جو جنت و دوزخ کا قائل نہیں بلکہ مراد اعمال کا بدلہ ہے خواہ اس دنیا میں ملے خواہ اگلے جہان میں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جو جنت و دوزخ کے قائل نہیں لیکن جزا وسزا کے قائل ہیں وہ بھی ہزاروں بدیوں سے بچے رہتے ہیں۔مثلاً بعض لوگ ایسے ہیں جو قومی خرابیوں کے نتائج کے قائل ہیں وہ یہ مانتے ہیں کہ بعض قسم کے کیریکٹر پیدا ہوجائیں تو قوم تباہ ہوجاتی ہے اور بعض قسم کے کیریکٹر پیدا ہوجائیں تو قوم تباہی سے بچ جاتی ہے مثلاً تعلیم اگر کسی قوم