تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 474
کہ آپ اس کی رقم اسے دے دیں۔اس نے کہا اچھا میں ابھی لاتا ہوں۔چنانچہ وہ اندر گیا اور روپیہ لا کر اس نے بدوی کو دے دیا۔جب اس کے دوستوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے طعنہ دیا کہ تم تو ہمیں کہتے تھے کہ ان کا مال کھانا جائز ہے (جیسے آج کل بعض مولوی کہتے ہیں کہ احمدیوں کا مال لوٹ لینا اور اسے کھاجانا جائز ہے) مگر تمہاری اپنی یہ حالت ہے کہ روپیہ فوراً لا کر دے دیا۔تم نے یہ کیا کیا۔ہم نے تو اس کو ذلیل کرنے کے لئے یہ منصوبہ کیا تھا مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ الٹاہم ذلیل ہو گئے۔جب دوستوں نے اسے یہ طعنہ دیا تو روایتوں میں آتا ہے ابوجہل نے انہیں یہ جواب دیا کہ خدا کی قسم جب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے پاس آئے تو میں نے دیکھا کہ آپ کے دائیں اور بائیں دو مست اونٹ کھڑے ہیں اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ اگر میں نے انکار کیا تو یہ دونوں اونٹ مجھ پر حملہ کر دیں گے۔اس لئے میں ڈرا اور میں نے روپیہ لاکر دے دیا۔بہرحال یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔اب خواہ یہ سمجھ لو کہ ایک یتیم آپ کے پاس سفارش کے لئے آیا اور آپ اس کے ساتھ چل پڑے اور خواہ اس واقعہ کو درست تسلیم کر لو کہ ایک بدوی آپ کے پاس آیا اور آپ اس کی رقم دلوانے کے لئے ابوجہل کے پاس گئے۔ان دونوں میں سے کوئی بات سمجھ لو تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوجہل کے پاس گئے اور آپ نے ایک غریب کا کھایا ہوا مال اس سے اگلوا دیا۔مذکورہ بالا معاہدہ کے بارہ میں احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ کیا جاہلیت کی کوئی بات ایسی ہے جسے آپ پسند فرماتے ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں حلف الفضول ایک ایسی چیز تھی کہ آج میں اسے اسلام میں بھی پسند کرتا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا لَوْ دُعِیْتُ الْاٰنَ لَاَجَبْتُ(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام حلف الفضول)۔اگر اب بھی میں اس کی طرف بلایا جاؤں تو میں اس میں ضرور حصہ لوں۔مظلوم کی مدد کرنا ایک بہت بڑی قیمتی چیز ہے مگر افسوس کہ مسلمانوں میں سے اب یہ بالکل مٹ گئی ہے۔وہ یوں تو بڑے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہیں مگر غریبوں کی مدد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔لوگ ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھتے ہیں اور جس کا لحاظ ہوتا ہے اس کی طرف داری کرتے ہیں حالانکہ اصل تقویٰ یہ ہے کہ جس کا حق مارا جارہا ہو اس کی تائید کے لئے انسان کھڑا ہو جائے اور اس کا حق دلوانے کے لئے دوسرے کے دروازہ پر دھرنا مار کر بیٹھ جائے اور کہے کہ میں تب تک نہیں ہلوں گا جب تک اس کا حق اسے نہ دلوا لوں۔ترتیب سورۃ یہ سورۃ دراصل پہلی سورۃ کے مضمون کا تتمہ ہے۔پہلی سورۃ میں یہ مضمون بیان کیا گیا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے رز ق مہیا کر دیا ہے تاکہ تم خدا تعالیٰ کے گھر میں بیٹھ کر اس کی عبادت کرو مگر تم اس طرف سے غافل ہو۔اب یہ بتاتا ہے کہ جن قوموں میں غفلت پیدا ہو جاتی ہے بڑھتے بڑھتے ان کی یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ