تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 475
دنیا کی محبت موت کو بھلا دیتی ہے اور اُخروی زندگی پر سے ان کا ایمان بالکل اٹھ جاتا ہے۔یہی مکہ کے لوگوں کا حال ہو گیا ہے ورنہ ابراہیمؑ کی اولاد اور قیامت کی منکر! یہ تعجب کی بات نہیں تو اور کیا ہے۔خدا کا ایک اولوالعزم نبی جو ایک لمبی بنیاد دین کی قائم کرنا چاہتا ہے جس کی تعلیم اورجس کے نصائح کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور اس کے قرب پر ہے اسی کی اولاد اگر اس نتیجہ پر پہنچ جائے کہ یہ جہان میٹھا ہے اگلے جہان کو کس نے دیکھا ہے۔تو یہ کتنے غضب کی بات ہے۔اتنا عظیم الشان تغیر یقیناً اس وقت تک نفس میں پیدا نہیں ہو سکتا جب تک کوئی بڑی بھاری خرابی پیدا نہ ہوجائے۔اور پھر میرے لئے جو بات نہایت تعجب انگیز ہے وہ یہ ہے کہ آل ابراہیم کے دونوں حصے اس وقت بعث بعد الموت کے منکر ہو گئے تھے۔آل ابراہیم بنو اسحاق اور بنواسماعیل پر مشتمل ہے۔ان میں سے بنو اسماعیل جو مکہ والے تھے وہ تو موت کے بعد کسی زندگی کے قائل ہی نہیں تھے۔رہ گئے بنواسحاق، ان کے متعلق شاید یہ بات ہرایک کو معلوم نہ ہو بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ بنو اسحاق کی کتابوں میں بھی کلی طور پر بعث بعد الموت کا ذکر اڑا دیا گیا تھا۔عام طور پر مسلمان واعظ یہ سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کےنزدیک بھی قیامت کا دن آنے والا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہودی کتابوں میں قیامت کا کوئی ذکر نہیں۔اگر تم میں سے کسی نے بائیبل پڑھی ہو تو وہ میری اس بات کی صداقت کی گواہی دے سکتا ہے اور اگر کسی نے پہلے نہ پڑھی ہو تو وہ اب پڑھ کر دیکھ لے بلکہ پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں یوں ہی دس پندرہ صفحے کسی جگہ سے بائیبل کے الٹ لو اور دس پندرہ صفحے کسی جگہ سے قرآن کریم کے نکال لو اور پھر یہ دیکھو کہ قرآن کریم میں کتنی دفعہ حیات بعد الموت کا ذکر آتا ہے اور بائیبل میں کتنی دفعہ حیات بعد الموت کا ذکر آتا ہے۔تمہیں صاف دکھائی دے گا کہ قرآن کریم میں تو دس پندرہ صفحات میں ہی کئی جگہ مرنے کے بعد کی زندگی کا ذکر آجائے گا۔مگر بائیبل میں اس سے دگنے صفحات میں بھی اس زندگی کی طرف اشارہ تک نہ ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے بعد الموت زندگی کا ذکر یہودیوں میں سے بالکل مٹ گیا تھا۔اب یہ تو ہم نہیں مان سکتے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام نے انہیں حیات بعد الموت کی کوئی خبر نہیں دی تھی یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جو پے در پے انبیاء ان میں آئے جیسے داؤد، سلیمان، الیاس، زکریا، یحییٰ علیہم السلام ان میں سے کسی نے بھی ان سے حیات بعد الموت کا ذکر نہیں کیا۔پس بائیبل میں اس کا کوئی ذکر نہ ہونا بتاتا ہے کہ یہود نے ایسی باتوں کو بائبل سے نکال دیا تھا۔ساری بائیبل میں اس اہم مسئلہ کی طرف اشارہ تک نہ ہونا جبکہ قرآن کریم بعث بعد الموت کے ذکر سے بھرا پڑا ہے کوئی معمولی بات نہیں۔میری رائے یہ ہے کہ بائبل میں یہ تغیّر اس لئے پیدا ہوا کہ یہود نے بائبل کی ان آیات کو جو اخروی زندگی کے متعلق تھیں غلطی سے اس جہان پر چسپاں کر لیا