تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 473
صبائی نہیں ہوا۔لیکن جب میرے سامنے محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) آئے تو میں نے دیکھا کہ آپ کے دائیں اور بائیں وحشی اونٹ کھڑے ہیں اور میں ڈرا کہ اگر میں نے آپ کی بات نہ مانی تو یہ اونٹ مجھ پر حملہ کردیں گے۔یہ روایت ایک اور طرح بھی آتی ہے اور میرے نزدیک وہی زیادہ صحیح ہے کہتے ہیں کہ مکہ میں جب حلف الفضول کا معاہدہ ہوا یعنی تین فضل نامی شخصوں نے ایک انجمن بنائی کہ اس کے سب ممبر قسم کھائیں کہ مظلوم کی مدد کریں گے (میں نے بھی اس کی نقل میں ایک تحریک جاری کی تھی مگر افسوس کہ وہ اب تک کامیاب نہیں ہو سکی جب خدا تعالیٰ چاہے گا کامیاب ہو جائے گی یہ تحریک ایک رؤیا کی بناء پر تھی۔میں نے دیکھا کہ گویا خدا تعالیٰ کا ارشاد ہو اہے کہ تم اپنے خاندان کے لوگوں سے کہہ دو کہ اگر حلف الفضول پر ان کا عمل رہے تو وہ تباہی سے بچے رہیں گے) اس معاہدہ کے بعد وہ نوجوان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی پہنچے۔یہ دعویٰ سے پہلے کی بات ہے۔آپ نے بھی غرباء کی مدد کرنے کی قسم کھائی اور اس معاہدہ میں شامل ہو گئے۔مگر کچھ عرصہ کے بعدوہ نوجوان اس معاہدہ کو بھول گئے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو سچے آدمی تھے۔آپ کو یہ معاہدہ یاد رہا۔جب آپ نے دعویٰ کیا تو ایک دن بعض مخالفوں نے شرارتاً یہ چاہا کہ آپ کا امتحان لیا جائے۔انہوں نے سوچا کہ آپ نے بھی غریبوں کی حمایت کے لئے قسم کھائی تھی اب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ غریبوں کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔روایات میں آتا ہے کہ ایک بدوی تھا جس سے ابوجہل نے کچھ سامان لیا تھا مگر اس کی رقم اسے نہ دی تھی۔وہ بدوی مکہ میں آتا اور شور مچاتا کہ ہم باہر سے آتے ہیں اپنا سودا یہاں فروخت کرتے ہیں مگر مکہ کے یہ لوگ جو بیت اللہ کے محافظ اور مذہبی آدمی سمجھے جاتے ہیں ہم پر اس اس رنگ میں ظلم کرتے ہیں اور جب لوگ اس سے دریافت کرتے کہ کیا ہوا تو وہ کہتا کہ ابوجہل نے میری اتنی رقم دینی ہے مگر وہ نہیں دیتا۔وہ کچھ فاتر العقل سا تھا اور یوں اس کا نقصان بھی کافی ہوا تھا جب وہ اس طرح بار بار شور مچاتا تو ایک دن لوگوں نے مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ اسے محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس بھیج د و اور اسے کہا کہ وہ آپ کو ساتھ لے جائے۔ان کی نیت نیک نہیں تھی ان کا منشا صرف یہ تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نہ گئے تو ہم کہیں گے کہ دیکھو آپ نے غریبوں کی مدد کے لئے قسم کھائی ہوئی تھی مگر اس کو پورا نہ کیا اور اگر گئے تو چونکہ ابوجہل آپ کی بات نہیں مانے گا آپ ذلیل ہوں گے۔بہرحال انہوںنے اس بدوی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوا دیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حالات سنے تو آپ نے اسی وقت اپنی چادر سنبھالی اور اس بدوی کے ساتھ چل پڑے۔ابوجہل کے دروازہ پر پہنچ کر آپ نے دستک دی۔جب وہ باہر آیا تو آپ نے فرمایا اس بدوی کی کچھ رقم آپ نے دینی ہے اسے روپیہ کی سخت ضرورت ہے۔میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں