تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 462
اور دونوں طرح ضمائر کا استعمال ہوتا ہے۔اس جگہ اشارۂ قریب کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور اشارۂ بعید کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے۔اشارۂ قریب لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ تھا اور اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ قریش بھوکے مرتے تھے ہم نے انہیں روٹی کھلائی۔پس چونکہ روٹی کا قریب میں ذکر آتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے روٹی کا ہی ذکر کیا اور فرمایا الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ۔اس کے بعد دوسرا اشارہ جو اشارۂ بعید ہے۔سورۃ الفیل کی آخری آیت فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ کی طرف تھا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو بھوسہ کی طرح اڑا دیا۔اگر ابرہہ کے لشکر کا کلّی استیصال نہ کیا جاتا تو یمن سے مکہ کو مستقل خطرہ رہتا اور یمن کا سفر مکہ والوں کے لئے بالکل ناممکن ہو جاتا۔اسی طرح یمن سے لڑائی کی وجہ سے شام کا سفر بھی ناممکن ہو جاتا کیونکہ یمن بھی روم کا صوبہ تھا۔پس چونکہ اس صورت میں مکہ والوں کے لئے یہ دونوں سفر ناممکن ہو جاتے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا پُر ہیبت نشان دکھایا کہ یمن کی مسیحی حکومت بالکل تباہ ہو گئی اور شام پر بھی رعب طاری ہو گیا اور مکہ والوں کے دونوں سفر قائم رہے پس چونکہ یہاں اشارۂ بعید فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ کی طرف تھا اور اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرنا چاہتا تھا جو اس نے اصحاب الفیل کو تباہ کر کے مکہ والوں پر کیا اس لئے اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ کا ذکر اس نے اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ کے بعد کیا۔اس آیت نے سورۃ الفیل کی آخری آیت کی طرف اشارہ کر کے ہمیں یہ بھی بتا دیاہے کہ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ کے جو مختلف معانی کئے گئے ہیں وہ سب کے سب درست ہیں۔یعنی اس سورۃ میں ایک مستقل مضمون بھی بیان کیا گیا ہے اور اس میں پہلی سورۃ کے مضمون کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ نے سورۂ ایلاف کے مستقل مضمون کی طرف اشارہ کر دیا اور اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ نے سورۃ الفیل کی طرف اشارہ کر دیا۔گویا یہ بھی درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ایلافِ قریش کی غرض سے تباہ کیا اور یہ بھی درست ہے کہ ان کے دلوں میں رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ کے متعلق رغبت پیدا کی تاکہ ان کو روٹی مل جائے اورمکہ میں اطمینان کے ساتھ بیٹھے رہیں۔بہرحال اللہ تعالیٰ اپنے ان دونوں انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم اس خدا کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھوک کی حالت میں کھانا کھلایا۔جو تمہارے قافلوں کو شام اور یمن کی طرف لے گیا اور اس طرح اس نے تمہارے لئے روٹی کا سامان کیا۔اسی طرح تم اس خدا کی عبادت کرو جس نے تمہارے خوف کو امن سے بدل دیا یعنی اصحاب الفیل جب حملہ کر کے آئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تباہ کیا اور تمہارے لئے اس نے امن کی صورت پیدا کی۔