تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 463
مِنْ جُوْعٍ میں مِنْ کا لفظ کیوں رکھا گیا ہے اور جُوْعٍ پر تنوین کیوں آئی ہے؟ اس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں اور دونوں ہی اس جگہ چسپاں ہوتی ہیں۔پہلی یہ کہ تنوین تعظیم کے لئے آتی ہے۔اگر اس امر کو مدّ ِنظر رکھا جائے تو الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ کے یہ معنی ہوں گے کہ اے اہل مکہ ہم نے تم کو ایک ایسی خطرناک بھوک سے بچایا ہے جس سے تمہارے بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔واقعہ یہ ہے کہ وہ لوگ ایک وادیٔ غیر ذی زرع میں پڑے ہوئے تھے۔ایسے غیرآباد خطہ میں رہتے ہوئے وہ بھوک کی موت سے کہاں بچ سکتے تھے۔طائف میں بے شک باغات وغیرہ تھے اور وہاں کسی قدر زراعت بھی ہوتی تھی مگر یہ زراعت بہت ناکافی تھی۔مکہ کے صرف چند امراء خاندان ہی ایسے تھے جن کو طائف سے غلہ آتا تھا۔باقی لوگوں کے لئے یا تو یمن سے غلہ آتا تھا یا مدینہ اور اس کے نواحی سے آتا تھا بلکہ بعض دفعہ شام سے بھی لانا پڑتا تھا۔زیادہ تر یمن سے ہی مکہ میں غلہ آتا تھا۔اسی طرح کبھی کبھار حبشہ سے بھی آجاتا تھا۔پس اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ میں اللہ تعالیٰ اس امر کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ تمہارا جائے وقوع ایسا تھا کہ تمہیں معمولی روٹی بھی کھانے کے لئے میسر نہیں آسکتی تھی مگر ہم نے محض اپنے فضل سے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ تمہیں بافراغت کھانا میسر آگیا اور تم بھوک کی تکلیف سے بچ گئے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مِنَ الْـجُوْعِ نہیں فرمایا اگر مِنَ الْـجُوْعِ ہوتا تو اس کے معنے محض بھوک کے ہوتے مگر مِنْ جُوْعٍ کے یہ معنے ہیں کہ ایسی شدید بھوک جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اٰمَنَهُمْ مِنَ الْخَوْفِ نہیں فرمایا بلکہ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ فرمایا ہے۔اس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے صرف خوف دور نہیں کیا بلکہ ایسا شدید خوف دور کیا جس نے تمہاری بنیادوں کو ہلا دیا تھا۔غرض تنوین چونکہ تعظیم کے لئے آتی ہے اس لئے مِنْ جُوْعٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ ایسی بھوک جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی اور مِنْ خَوْفٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ ایسا خطرناک خوف جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔چنانچہ اصحاب الفیل کے واقعہ میں مَیں تفصیل کے ساتھ بیان کر چکا ہوں کہ حضرت عبدالمطلب نے ابرہہ سے صاف طو رپر کہہ دیا تھا کہ ہم میں تم سے لڑنے کی کوئی طاقت نہیں اگر یہ خدا کا گھر ہے تو وہ آپ اس کو بچاتا پھرے پھر ھذیل اور بنو کنانہ نے بھی متفقہ طور پر غور کرنے کے بعد اہل مکہ کو یہی مشورہ دیا تھا کہ ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتے تم ابرہہ اور اس کے لشکر کے سامنے ہتھیار ڈال دو تاکہ وہ جو چاہے کر لے۔یہ کتنا بڑا خوف ہے کہ ایک قوم کی قوم ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہو گئی یہی حکمت ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہاں مِنَ الْخَوْفِ نہیں بلکہ مِنْ خَوْفٍ فرمایا ہے یعنی میں نے ایک عظیم الشان خوف سے تم کو بچایا۔لیکن جہاں تنوین تعظیم کے لئے آتی ہے وہاں عربی زبان میں تنوین تحقیر کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔اگر اس استعمال کو مدّ ِنظر رکھا جائے تو پھر مِنْ جُوْعٍ کے