تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 461
اور اپنی سچائی کی بازی لگائی تھی۔پس اسے اگر شہرت حاصل ہوئی ہے تو محض اتفاقی طور پر۔جیسے لنڈن ایک بہت بڑا شہر بن گیا۔مگر اس کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں تھی۔نیویارک ایک بہت بڑا شہر بن گیا مگر اس کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں تھی۔بے شک وہ بہت بڑے شہر ہیں مگر ان کی ترقی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر لنڈن سے پچاسویں حصہ کے برابر بھی کوئی شہر اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق آباد ہوتا ہے تو ہم اسے اللہ تعالیٰ کا نشان قرار دیں گے۔پس کسی مندر کی مقبولیت اور خانہ کعبہ کی مقبولیت میں بڑا بھاری فرق ہے۔خانہ کعبہ کی مقبولیت خدائی پیشگوئیوں کے مطابق ہوئی ہے لیکن مندروں کی مقبولیت محض ایک اتفاقی امر ہے جس طرح سونے کے مقابلہ میں ملمّع ہوتا ہے اسی طرح خانہ کعبہ کی عظمت کے مقابلہ میں کسی مندر کی عظمت یا اس کی ترقی بھی ایک ملمّع سے زیادہ اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِۙ۰۰۴ پس انہیں لازم ہے کہ وہ (یعنی قریش) اس گھر (یعنی کعبہ) کے مالک کی عبادت کریں۔الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍؒ۰۰۵ جس نے انہیں (ہر قسم کی) بھوک (کی حالت) میں کھانا کھلایا اور (ہر قسم کے ) خوف کی حالت میں امن بخشا۔تفسیر۔اس آیت نے اس مضمون کو بالکل واضح کر دیا ہے جس پر میں شروع سے زور دیتا چلا آرہا ہوں۔میں نے بتایا تھا کہ یہاں اصل ذکر خدا کی خدائی اور اس کی طاقت و قوت اور اس کے فضل اورا حسان کا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خدا ہی ہے جس نے رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ کی محبت پیدا کی اور وہ خدا ہی ہے جس نے انہیں سفر کی سہولتیں مہیا کر کے عزت اور شہرت دی۔اب اس آیت میں اوپر کے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب قریش پر ہم نے اس قدر احسانات کئے ہیں تو کیا ان کا فرض نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔اس خدا کی عبادت الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ جس خدا نے انہیں بھوک پر کھانا کھلایا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دیا۔عربی زبان میں یہ قاعدہ ہے کہ کبھی اشارۂ قریب کا ذکر پہلے آجاتا ہے اور اشارۂ بعید کا ذکر بعد میںآتا ہے اور کبھی ترتیب کلام کو مدّ ِنظر رکھا جاتا اور اسی کے مطابق اشارہ لایا جاتا ہے۔یہ دونوں طریق عربی زبان میں مروّج ہیں