تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 460

کریں اور پھر دیکھیں کہ اس کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔یوں کسی مندر کی عزت ہونا اور بات ہے اور پیشگوئی کے ماتحت عزت ہونا اور بات ہے۔اگر ایک شخص کسی مجلس میں بیٹھے ہوئے قبل از وقت کہہ دیتا ہے کہ ابھی زید آئے گا اور پھر واقعہ میں زید آجاتا ہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ دیکھو میری بات پوری ہو گئی۔لیکن ایک اور شخص جو چپ کر کے بیٹھا رہتا ہے اگر وہ کہے کہ دیکھو میری بات پوری ہو گئی زید آگیا ہے تو ہر شخص اس پر ہنسے گا کہ تم نے یہ بات ہی کب کی تھی کہ زید کے آنے پر تم کہہ رہے ہو کہ میری بات پوری ہو گئی ہے اسی طرح خانۂ کعبہ کی بنیاد رکھتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک پیشگوئی کی۔اس میں یہ بھی ذکر تھا کہ خانہ کعبہ ترقی کرے گا۔یہ بھی ذکر تھا کہ لوگ یہاں حج اور طواف کے لئے آئیں گے۔یہ بھی ذکر تھا کہ لوگ یہاں بسیں گے۔یہ بھی ذکر تھا کہ اس گھر کو محفوظ رکھا جائے گا اور کوئی دشمن اسے تباہ نہیں کر سکے گا۔یہ بھی ذکر تھا کہ اس مقام پر رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق دیا جائے گا جب ایک ایک کر کے تمام پیشگوئیاں پوری ہو گئیں اور پھر مخالف حالات میں پوری ہوئیں تو یقیناً ان پیشگوئیوں کا پورا ہونا اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ خانۂ کعبہ سے جو کچھ سلوک ہوا وہ اتفاقی نہیں تھا بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔لیکن دوسرے مندروں میں سے اگر کسی کو کوئی عزت حاصل ہوئی ہے تو چونکہ اس کے ساتھ کوئی پیشگوئی نہیں تھی اس لئے اسے محض اتفاق پر محمول کیا جائے گا۔پھر خانۂ کعبہ کا محل وقوع دیکھ لو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسی جگہ یہ گھر بنایا جہاں کوئی آبادی نہیں تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسی جگہ یہ گھر بنایا جس کے اردگرد بھی میلوں میل تک کوئی آبادی نہیں تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسی جگہ یہ گھر بنایا جہاں پانی موجود نہیں تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسی جگہ یہ گھر بنایا جہاں کھیتی موجود نہیں تھی۔گویا خدائی ہاتھ کا ثبوت دینے کے لئے جو جگہ ہر قسم کی ترقی کے سامانوں سے محروم تھی وہی جگہ اس گھر کے لئے تجویز کی گئی۔پانی آبادی کے لئے ضروری ہوتا ہے مگر وہاں پانی نہیں تھا۔کھیتی آبادی کے لئے ضروری ہوتی ہے مگروہاں کھیتی نہیں تھی۔شہر اور اردگرد کی آبادی، آبادی کے لئے ضروری ہوتی ہے مگر وہاں نہ کوئی شہر تھا اور نہ اس کے اردگرد کوئی آبادی تھی۔ان حالات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر دنیا میں یہ اعلان کرنا کہ یہاں لوگ آئیں گے اور حج بیت اللہ کریں گے اور پھر لوگوں کا وہاں آنا اور حج بیت اللہ کرنا اور ایک غیرآباد مقام کا آباد ہو کر ایک بہت بڑا شہر بن جانا بتاتا ہے کہ جو کچھ ہوا رب البیت کی طرف سے ہوا۔اس کے مقابلہ میں اتفاقی طور پر اگر کسی مندر کو شہرت حاصل ہو جاتی ہے تووہ ہرگز اس مندر کے کسی بت کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔کیونکہ کب اس مندر کی عظمت کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی۔کب یہ کہا گیا تھا کہ اس کی لوگوں میں شہرت ہو جائے گی اور کب کسی قوم اور مذہب نے اس دعویٰ کی سچائی پر اپنی عزت