تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 459

اسی کو ایک اور مثال سے یوں سمجھ لو کہ ماں باپ بچے کو پالتے ہیں اور ماں باپ کی خدمت بچہ سے طبعی محبت کا ثبوت ہوتی ہے لیکن بعض دفعہ ٹھگ بچہ چرا کر لے جاتے ہیں اور بچہ کو آئندہ کی شرارت کی غرض سے پالتے ہیں۔وہ اس کو بداخلاق، چور اور ڈاکو بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر بہرحال وہ پالتے محبت سے ہیں۔اگر ماں باپ کی طرح محبت سے نہ پالیں تو وہ فوراً بھاگ جائے گویا وہ محبت تو کرتے ہیں مگر ان کی محبت جھوٹی ہوتی ہے۔اب کیا ان کا پالنا اس امر کی دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے کہ ماں باپ کو بھی بچہ سے محبت نہیں ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اصلی اور نقلی چیزوں میں بڑا بھاری فرق پایا جاتا ہے اسی طرح جھوٹے معبودوں اور مندروں اور پجاریوں کی عزت اور اس عزت میں بڑا بھاری فرق ہے جو خانۂ کعبہ کو حاصل ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ خانۂ کعبہ اتفاقی طور پر معزز نہیںہو ابلکہ خانۂ کعبہ کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے الہام سے رکھی گئی۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ ( اٰلِ عـمران:۹۷)یہ سب سے پہلا گھر تھا جو سب دنیا کے فائدہ کے لئے بنایا گیا تھا۔یہ ظاہر ہے کہ پرانے زمانے کے قومی مذہب ایسا گھر نہیں بنا سکتے جو سب دنیا کے لئے ہو۔ایسا گھر خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے اور اسی کے الہام سے مقرر کیا جا سکتا ہے۔اس کے بعد زمانۂ ابراہیمی میں پھر خدا تعالیٰ کے الہام کے مطابق اس کی عمارت کی تجدید ہوئی چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں خداکے لئے اس گھر کو بناتا ہوں اور اس لئے بناتا ہوں کہ یہاں لوگ آئیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، اس کے گھر کا طواف کریں، عبادت اور ذکر الٰہی میں اپنا وقت بسر کریں اور آنے والوں کی خدمت کریں۔پھر انہوں نے دعا کی کہ خدایا تو بھی اس گھر کو امن دیجئو اور اس کے رہنے والوں کو اپنے پاس سے رزق دیجئواور پھر ان میں سےایک نبی پیدا کیجئو جو انہیں تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کے نفوس کا تزکیہ کرے یہ دعا تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھتے وقت کی۔اس وقت کی جب خانۂ کعبہ کی ترقی کے کوئی آثار نہ تھے، اس وقت کی جب اس کی آبادی کے کوئی آثار نہ تھے، اس وقت کی جب وہ محض ایک وادیٔ غیر ذی زرع تھی، اس وقت کی جب اس میں پانی کا ایک گھونٹ اور گندم کا ایک دانہ بھی موجود نہیں تھا۔پس اس کے بعد خانۂ کعبہ کی جو کچھ ترقی ہوئی اسے یقیناً ہم اس دعا اور پیشگوئی کی طرف منسوب کریں گے اور کہیں گے کہ یہ سلوک محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔اس کے مقابلہ میں دنیا میں بے شک لاکھوں مندر موجود ہیں مگر کیا ان میں سے کوئی ایک مندر بھی ایسا ہے جس کی ترقی کسی پیشگوئی کے ماتحت ہوئی ہو۔یا کیا ان مندروں میں سے کوئی ایک مندر بھی ایسا ہے جس کو ماننے والے آج ہی اس قسم کی پیشگوئی دنیا میں شائع کر سکیں۔اگر ان میں ہمت اور طاقت ہے تو وہ ایسی پیشگوئی