تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 457
ہوں۔یہ کہہ کر وہ آگے بڑھے اور اس پتھر کو بوسہ دیا اس کا مطلب یہی تھا کہ خدا نے تیرا ادب سکھایا ہے اس لئے میں ادب کرتا ہوں ورنہ تیرے اندر ذاتی طو رپر کوئی ایسی طاقت نہیں جس کی بناء پر تجھے چوما جا سکے جب اس احساس کے ساتھ ہم حجرِاسود کو چومتے ہیں کہ ہمارے خدا نے اس کو چومنے کا حکم دیا ہے ورنہ وہ ایک معمولی پتھر ہے تو ہم توحید پر قائم ہوتے ہیں۔اور جب ہم اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس پتھر کو کسی خاص خوبی کا مالک سمجھ لیتے ہیں تو ہمارا یہی فعل مشرکانہ فعل بن جاتا ہے۔حضرت عمرؓ نے حجرِ اسود کو چوما مگر وہ مشرک نہیں تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حجرِ اسود اپنی ذات میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔میرے رب کا حکم مجھے لایا اور میں نے اسے چوما۔لیکن اگر کوئی دوسرا شخص حجرِ اسود کو چومتا ہے اور دل میں سمجھتا ہے کہ حجرِ اسود میں کوئی خاص بات ہے جس کی وجہ سے اسے چوما جاتا ہے تو وہی شخص مشرک بن جائے گا۔اگر ایک شخص خانہ کعبہ کا اس لئے طواف کرتا ہے کہ میرے خدا نے اس کے طواف کرنے کا حکم دیا ہے تو وہ بڑا مؤحد ہے اور اگر کوئی شخص خانۂ کعبہ کا اس لئے طواف کرتا ہے کہ اس گھر میں کوئی خاص طاقت ہے تو وہ مشرک ہے یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ تم سمجھتے ہو اس بیت کی وجہ سے تمہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے احمقو! یہ سب کچھ اس بیت نے نہیں کیا بلکہ رب البیت نے کیا ہے۔اس گھر کو تو خدا نے محض ایک علامت کے طور پر مقرر کیا ہے۔جیسے پرانے زمانہ میں دستور تھا کہ بادشاہ کسی بکرے یا اونٹ وغیرہ پر اپنا نشان لگا کر اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے اور کسی کی طاقت نہیں تھی کہ اس کو نقصان پہنچا سکے اور اگر کوئی اس کو نقصان پہنچاتا تو اس کے معنے یہ ہوتے تھے کہ بادشاہ کی ہتک کی گئی ہے۔چنانچہ جب کوئی مخالف بادشاہ اس بکرے یا اونٹ کو مار ڈالتا تو اس سے لڑائی شروع ہو جاتی تھی۔اس لئے نہیں کہ اس نے اونٹ کو مارا ہے اس لئے نہیں کہ اس نے گھوڑے کو مارا ہے، اس لئے نہیں کہ اس نے بکرے کو مار اہے، اس لئے نہیں کہ اس نے دنبہ کو مارا ہے بلکہ اس لئے کہ بادشاہ یہ سمجھتا تھا کہ اس نے میری ہتک کی ہے۔اسی طرح بیت اللہ کو خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کے لئے ایک مرکز اور اولادِ ابراہیم ؑ کو جمع رکھنے کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔پس وہ خدا کی ایک علامت ہے جو دنیا میں پائی جاتی ہے۔اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ اس گھر میں کوئی خاص بڑائی پائی جاتی ہے تو وہ مشرک ہے اور اگر کوئی شخص اس کی یہ سمجھ کر ہتک کرتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ نشانی نہیں تو وہ خدا کا بھی دشمن ہے۔ایک سے وہ معاملہ کیا جائے گا جو مشرکوں سے کیا گیا اور دوسرے سے وہ معاملہ کیا جائے گا جو اصحاب الفیل سے کیا گیا۔صرف اسی شخص کا نقطۂ نگاہ صحیح سمجھا جائے گا جو یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ کیا رب البیت نے کیا ہے بیت نے نہیں کیا۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ۔جو کچھ مکہ والوں سے سلوک ہو رہا ہے اس کی وجہ رب البیت کے سوا کوئی نہیں۔اگر