تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 458
اس گھر کا کوئی رب نہ تھا تو اصحاب الفیل کو کس نے تباہ کیا، اگر رب البیت نہ تھا تو مکہ کی حفاظت اس طرح صدیوں تک کس نے کی، اگر رب البیت نہ تھا تو مکہ والوں کو رزق کس نے مہیا کیا، اگر رب البیت نہ تھا تو ان کے ان سفروں میں یہ برکات کس طرح رکھی گئیں، اگر رب البیت نہ تھا تو آنےو الے موعود کی یاد دلانے کے لئے جس کی خاطر یہ گھر بنایا گیا تھا مکہ والوں کو ان ملکوں سے کس نے روشناس کروایا۔پس جب تمہارے ساتھ جو کچھ سلوک کر رہا ہے خدا تعالیٰ کر رہا ہے تو یہ کیسی قابلِ شرم حرکت ہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر لات اور منات اور عزّیٰ کی پرستش کر رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ خانۂ کعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ہم جو جی چاہے کر لیں ہمارے لئے جائز ہے۔تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس خانۂ کعبہ کی عزت بھی رب البیت کی وجہ سے ہے اور جب اس کی عزت بھی رب البیت سے وابستہ ہے اور اسی نے تم کو ترقیات بخشی ہیں تو کیا تمہارا فرض نہیں کہ تم شرک چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔گویا عبادت اور توحید دونوں پر اس آیت میں زور دیا گیا ہے۔کہا جا سکتاہے کہ جھوٹے معبودوں اور مندروں اور پجاریوں کی بھی تو دنیا میں عزت کی جاتی ہے۔پھر کیا وہ عزت بھی اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ بتوں نے ان کو عزت دی ہے یعنی تم یہ کہتے ہو کہ وہ اس خانہ کعبہ کی عزت رب البیت کی وجہ سے ہے حالانکہ دنیا میں ایسے مندر بھی موجود ہیں جن کی بڑی عزت کی جاتی ہے پھر کیا ان کی عزت بھی ان کے بتوں کی طرف منسوب ہو سکتی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان بتوں نے ان کو عزت دی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جھوٹی اور سچی چیزیں ایک ہی وقت میں دنیا میں موجود رہتی ہیں۔سونا بھی موجود ہوتا ہے اور ملمّع بھی موجود ہوتا ہے مگر کیا ملمّع کی وجہ سے لوگ سونے کو چھوڑ دیا کرتے ہیں؟ اسی طرح دنیا میں سیپ کے بنے ہوئے موتی بھی موجود ہیں اور اصلی موتی بھی موجود ہیں نقلی ہیرا بھی موجود ہے اور اصلی ہیرا بھی موجود ہے۔ایسی صورت میں ہم کیا کرتےہیں کیا ہم اصلی چیزوں کو چھوڑ دیا کرتے ہیں یا ہم یہ کیا کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسی امتیازی علامات ہیں جن پر پرکھ کر ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ جھوٹا کون سا ہے اور سچا کون سا ہے ہم جھوٹے موتیوں کی وجہ سے اصلی موتیوں کو چھوڑانہیں کرتے۔ہم جھوٹے ہیروں کی وجہ سے اصلی ہیروں کو چھوڑا نہیں کرتے۔ہم جھوٹے سونے کی وجہ سے اصلی سونے کو چھوڑا نہیں کرتے۔بلکہ ہم یہ کہا کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسے امتیازی نشانات ہیں جن پر پرکھ کر ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ نقلی چیز کون سی ہے اور اصلی چیز کون سی۔اسی طرح اس معاملہ میں بھی ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ یہ عزت جو خانۂ کعبہ کو حاصل ہوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی یا نہیں اور اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی تو اس کا امتیازی نشان کیا تھا جو اسے دوسرے معبدوں اور مندروں سے ممتاز کر دے۔