تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 456
رکھا حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ اس احسان کے بدلے میں وہ رب البیت کی عبادت کرتے اور ہمارے احسانات کی قدر کرتے۔یہاں رب البیت کیوں کہا ہے؟ صرف بیت کیوں نہیں کہا۔اس لئے کہ قرآن کریم اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی بے جان چیز اپنے اندر طاقتیں رکھتی ہے۔وہ طاقتوں کا مالک صرف خدا تعالیٰ کو سمجھتا ہے۔پس توحید کامل کا سبق دینے کے لئے یہاں رب البیت کے الفاظ رکھے گئے ہیں۔یعنی مکہ والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس بیت کی وجہ سے انہیں یہ اعزاز حاصل ہو اہے حالانکہ یہ اعزاز انہیں بیت کی وجہ سے نہیں بلکہ رب البیت کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔گویا نتیجہ یہ نکالا گیا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ خانۂ کعبہ نے کچھ کیا ہے خانۂ کعبہ کچھ نہیں کر سکتا وہ مٹی کا ایک مکان ہے اور اس میںیہ طاقت ہرگز نہیں کہ وہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچا سکے۔اس گھر کا رب ہے جو سب طاقتوں کا مالک ہے۔احادیث میں آتا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ طواف کر رہے تھے کہ آپ حجرِ اسود کے پاس سے گذرے اور آپ نے اسے اپنی سوٹی ٹھکرا کر کہا میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور تجھ میں کچھ بھی طاقت نہیں مگر میں خدا کے حکم کے ماتحت تجھے چومتا ہوں۔یہی جذبۂ توحید تھا جس نے ان کو دنیا میں سربلند کیا۔وہ خدائے واحد کی توحید کے کامل عاشق تھے۔وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے کہ اس کی طاقتوں میں کسی اور کو شریک کیا جائے بے شک وہ حجرِ اسود کا ادب بھی کرتے تھے مگر اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے اس کا ادب کرو۔نہ اس لئے کہ حجرِ اسود کے اندر کوئی خاص بات ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر خدا تعالیٰ ہمیں کسی حقیر سے حقیر چیز کو چومنے کا حکم دے دے تو ہم اس کو چومنے کے لئے بھی تیار ہیں کیونکہ ہم خدا تعالیٰ کے بندے ہیں کسی پتھر یا مکان کے بندے نہیں۔پس وہ ادب بھی کرتے تھے اور توحید کو بھی نظرانداز نہیں ہونے دیتے تھے اور یہی ایک سچے مومن کا مقام ہے۔ایک سچا مومن بیت اللہ کو ویسے ہی پتھروں کا ایک مکان سمجھتا ہے جیسے دنیا میں اور ہزاروں مکان پتھروں کے بنے ہوئے ہیں۔ایک سچا مومن حجرِ اسود کو ویسا ہی پتھر سمجھتا ہے جیسے دنیا میں اور کروڑوں پتھر موجود ہیں مگر وہ بیت اللہ کا ادب بھی کرتا ہے، وہ حجرِ اسود کو چومتا بھی ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرے رب نے ان چیزوں کے ادب کرنے کا مجھے حکم دیا ہے مگر باوجود اس کے کہ وہ اس مکان کا ادب کرتا ہے باوجود اس کے کہ وہ حجرِ اسود کو چومتا ہے پھر بھی وہ اس یقین پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے کہ میں خدائے واحد کا بندہ ہوں کسی پتھر کا بندہ نہیں۔یہی حقیقت تھی جس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اظہار فرمایا۔آپ نے حجرِ اسود کو سوٹی ماری اور کہا میں تیری کوئی حیثیت نہیں سمجھتا۔تو ویسا ہی پتھر ہے جیسے اور کروڑوں پتھر دنیا میں نظر آتے ہیں۔مگر میرے رب نے کہا ہے کہ تیرا ادب کیا جائے اس لئے میں ادب کرتا