تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 455
زادہ کہاں سے آگیا۔وہ دوکانیں کر رہے ہیں، وہ تجارتیں کر رہے ہیں، روپیہ کمانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور جب انہیں کہا جائے کہ تم دین کے لئے اپنی زندگی کیوں وقف نہیں کرتے تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اگر ہم زندگیاں وقف کریں توگذارہ کس طرح کریں گویا دوسرا شخص اگر تیس روپیہ لے کر گذارہ کر سکتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اتنے تھوڑے روپوں میں گذارہ نہیں کر سکتے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام خدا تعالیٰ نے ابراہیمؑ بھی رکھا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہے کہ آپ کی اولاد اسماعیلی نمونہ کو اختیار کرے اور دین کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے۔اس کے بعد خدا انہیں زیادہ دے تو وہ زیادہ قبول کر لیں اور اگر کم دے تو کم پر راضی رہیں یہ خدا تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے بعض فاقہ زدہ نبی بھی ہوئے ہیں اور حضرت سلیمانؑ جیسے بادشاہ بھی گذرے ہیں جن کے لشکروں اور نوکروں کی تعداد ہی ہزاروں تک پہنچتی تھی۔میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ جماعت کے سفلی طبع لوگ یا منافق طبقہ ان کو تو ادنیٰ نگاہ سے دیکھتا ہے جو دین کی خدمت کرتے ہیں اوران کی تعریف کرتا ہے جو دنیا کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔میں خوب سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کا ایک حصہ جاہل ہے اور دوسرا منافق۔جو اس طرح جماعت کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا فعل ایک دن ایسے سب لوگوں کو خس کم جہاں پاک کر دے گا۔کیونکہ مومنوں کا دور ابھی آنا ہے۔بہرحال میں جماعت کو یہ انتباہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں ہماری جماعت خطرناک کوتاہی کا ارتکاب کر رہی ہے۔دین کی خدمت کے لئے جتنے لوگوں کو اپنی زندگی وقف کرنی چاہیے اتنے لوگ اپنی زندگی وقف نہیں کر رہے اور پھر جو زندگی وقف کرتے ہیں وہ بھی اپنے فرائض کو پورے طور پر ادا نہیں کر رہے۔حالانکہ جب تک اس امر کی طرف توجہ نہیں ہو گی ہمارا کبھی بھی وہ پیمان پورا نہیں ہو گا جو ہم خدا کے ساتھ بیعت کے وقت کرتے ہیں۔اور جب تک ہم اپنے پیمان کو پورانہیں کرتے اس وقت تک خدا تعالیٰ کا ہمارے متعلق جو عہد ہے اس کے بھی ہم کبھی حقدار نہیں ہو سکتے۔اب میں پھر نفسِ مضمون کی طرف آتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ نتیجہ ہے لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ کا۔یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اہل مکہ سے احسان اور سلوک اسی لئے کیا تھا کہ وہ ہماری عبادت کرتے۔آخر کیا حق تھا ان کا ہم پر کہ ہم دوسروں کے مقابلہ میں ان سے نمایاں سلوک کرتے۔کیا یورپ والے ہمارے دشمن تھے۔کیا ہندوستان والے ہمارے دشمن تھے۔کیا حبشی ہماری مخلوق نہیں تھے؟ پھر کیوں ہم نے ان کی ترقی کا خاص سامان کیا؟ اسی لئے کہ وہ ہمارے گھر کے پاس رہتے ہیں۔تا ایسا نہ ہو کہ انہیں روٹی کی تکلیف ہو اور وہ اس مقام کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔مگر دیکھو ہم تو انہیں روٹی دیتے رہے مگر انہوں نے ہمارا خیال نہ