تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 454

تاریخوں سے ثابت ہے کہ جب رومی سفیر مسلمانوں کی حالت دیکھ کر واپس گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ آپ مسلمانوں کے مقابلہ میں جیت نہیں سکتے۔اس نے پوچھا کیوں؟ رومی سفیر نے جواب دیا کہ وہ تو سارا دن لڑتے اور ساری رات اللہ تعالیٰ کی عبادتیں کرتے ہیں۔وہ آدمی نہیں بلکہ جِنّ معلوم ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر زور دینا ایسا نور پیدا کر دیتا ہے جس سے پہلے انسان کو اپنے نفس پر قابو حاصل ہوتا ہے اور پھر وہ دنیا کی اور طاقتوں کو مغلوب کر لیتا ہے۔آج کل کے لوگ مغربی تہذیب کے ماتحت یہ سمجھتے ہیں کہ ذکرِ الٰہی وغیرہ کرنا اور مصلّٰے پر بیٹھے رہنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔حالانکہ یہ مصلّٰے پر بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والے ہی تھے جنہوں نے بارہ سال کے اندر اندر آدھی دنیا تہ و بالا کر دی۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ مصلّٰے پر بیٹھنے سے وقت ضائع نہیں ہوتا بلکہ انسان کو ایسی برکت ملتی ہےکہ وہ بڑے بڑے کام تھوڑے سے وقت میں کر لیتا ہے۔پس مصلّٰے پر بیٹھنے کے معنے نکما پن کے نہیں بلکہ درحقیقت اس سے ایسی مہارت پیدا ہو جاتی ہے اور دل میں اس قسم کا نور پیدا ہو جاتا ہے کہ تھوڑے سے وقت میں انسان بڑے بڑے کام کر لیتا ہے۔اگر تین گھنٹے وہ ذکر الٰہی میں مصروف رہتا ہے تو بےشک بظاہر اس کے تین گھنٹے وقت میں سے کم ہو جائیں گے مگر انہی تین گھنٹوں کی بدولت وہ آٹھ گھنٹوں میں وہ کچھ کام کر لے گا جو باقی ۲۴ گھنٹوں میں بھی نہیں کر سکیں گے۔پس عبادت کی کثرت تہجد اور ذکرِ الٰہی کی طرف توجہ کرو اور اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کرو۔میں بتا چکا ہوں کہ ابھی ہماری جماعت میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جنہوںنے خدمت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی ہوں اور پھر جو اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں ان میں سے بھی ایک حصہ ایسا ہے جو اپنے فرائض کو نہیں سمجھتا۔مثلاً کوئٹہ کی جماعت کو ہی لے لو۔یہ جماعت بہت سی جماعتوں سے اچھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض کاموں میں اس نے نہایت شاندار نمونہ دکھایا ہے مگر جہاں تک زندگی وقف کرنے کا سوال ہے ابھی وہ بھی اس میں بہت پیچھے ہے۔اس معاملہ میں سب بڑی ذمہ واری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان پر ہے۔میں صرف دوسروں پر اعتراض نہیں کرتا۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کے افراد کو بھی اس میں شامل کرتا ہوں۔میں دیکھتا ہوں کہ ان میں سے بھی ایک حصہ اس فرض کو بھول کر دنیوی کاموں اور تجارتوں میں مشغول ہو گیا ہے اور یہ ایک بہت بڑی کوتاہی ہے جس کا وہ ارتکاب کر رہے ہیں۔لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ان کو بگاڑنے والی زیادہ تر جماعت ہے جو ان کو صاحبزادے صاحبزادے کہہ کر خراب کر دیتی ہے۔حالانکہ جو صاحب کو بھول گیا وہ