تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 447

ان معنوں کے رو سے اس مضمون کی طرف اشارہ سمجھا جائے گا کہ تمہارے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے یہ تمہاری وجہ سے نہیں ہو رہا بلکہ خانۂ کعبہ کی خدمت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔کیونکہ جب کسی کام کا ایک نتیجہ بیان کر دیا جائے تو درحقیقت وہی نتیجہ اس کام کا اصل باعث ہوتا ہے۔مثلاً ایک آقا اپنے نوکر کو تنخواہ دیتا ہے اگر کسی وقت وہ نوکر اس کی نافرمانی کرتا ہے تو آقا اس سے کہتا ہے ہم تمہیں تنخواہ دیتے ہیں تم کو چاہیے کہ تم ہماری فرمانبرداری کرو۔اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہوتےہیں کہ ہم تمہیں اس لئے تنخواہ دیتے ہیں کہ تم ہماری فرمانبرداری کرو۔اسی طرح لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ کا نتیجہ یہاں فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ نکالا گیا ہے یعنی ہم نے ایلاف کیا اور اس کے اچھے سے اچھے نتائج پیدا کئے پس چاہیے کہ وہ رب البیت کی عبادت کریں۔یہاں ’’پس‘‘ کا لفظ بتاتا ہے کہ پہلا انعام پہلا اکرام اور پہلا احترام اسی غرض سے تھا کہ وہ رب البیت کے ساتھ تعلق رکھیں۔پس اگر فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ کو لِاِيْلٰفِ کے ساتھ لگایا جائے جیسا کہ بہت سے نحوی یہی سمجھتے ہیں۔تو اس صورت میں اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تمہارے ساتھ یہ سلوک اس لئے کیا جاتا ہے کہ تم خدا کے گھر کو آباد رکھو اور اس کا ذکر کیا کرو۔اس طرح ان پر واضح کیا گیا ہے کہ تم اپنے متعلق یہ خیال نہ کر لینا کہ سلوک تمہاری کسی نیکی یا تمہاری کسی خوبی کی وجہ سے ہے۔جیسے یہود میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ وہ خدا کے محبوب اور پیارے ہیں اس لئے ان سے نیک سلوک کیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر آتا ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ انہیں صرف چند دن سزا ملے گی۔بعض کا یہ خیال تھا کہ ابراہیمی نسل میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا بعض کا یہ خیال تھا کہ انہیں صرف گیارہ مہینے سزا ملے گی بارہویں مہینے ہر ایک کو آزاد کر دیا جائے گا بعض کا یہ خیال تھا کہ ان کو صرف چالیس دن تک سزا ملے گی اور بعض کا یہ خیال تھا کہ انہیں بارہ دن سزا ملے گی۔پھر بعض لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ انہیں صرف سات دن سزا ملے گی (بحر محیط زیر آیت قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ۔۔۔۔) اور بعض خیال کرتے تھے کہ یہودی جب دوزخ کے پاس لے جائے جائیں گے تو وہ خدا سے کہیں گے کہ اس تعلق کو یاد کر جو تجھے ہمارے باپ ابراہیمؑ سے تھا۔اس پر خدا انہیں فوراً واپس لوٹا دے گا اور انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔اسی قسم کا خیال عربوں میں بھی پیدا ہو سکتا تھا کہ چونکہ ہم ابراہیمؑ کی نسل میں سے ہیں اس لئے ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔پس اس آیت میں اس کا ازالہ کیا گیا ہے۔درحقیقت ہر قوم جب بداعمالی کی طرف راغب ہوتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو بھول جاتی ہے تو وہ چاہتی ہے کہ کسی ٹوٹکہ کے ذریعہ سے ہی نجات حاصل کر لے۔پس اللہ تعالیٰ فرتا ہے۔لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ