تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 448

وَالصَّيْفِ۔فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ (قريش:۲تا۴) ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے ان پر جو احسان کیا ہے یہ خانۂ کعبہ کی وجہ سے کیا ہے ان کی ذات کی وجہ سے نہیں کیا۔ابراہیمؑ کی نسل ہونے کی وجہ سے ہم ان پر یہ فضل نہیں کر رہے تھے بلکہ اس لئے کر رہے تھے کہ اگر انہیں کھانے پینے کو بافراغت مل جائے گا توہ خدا کا ذکر کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنے اوقات بسر کریں گے تاکہ آنے والے موعود پر ایمان لانے کے لئے تیار ہوتے رہیں۔پس لِاِيْلٰفِ کا تعلق اگر فَلْيَعْبُدُوْا سے سمجھا جائے تو اس امر پر زور ثابت ہو گا کہ قومی برتری کوئی چیز نہیں۔ان کا یہ خیال کہ یہ سب کچھ ہماری خاطر ہو رہا ہے بالکل غلط ہے۔یہ خانۂ کعبہ کی خاطر، خانۂ کعبہ کے نبی کی خاطر اور ذکر ِ الٰہی کو قائم رکھنے کی خاطر ہو رہا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اور قومیں تو الگ رہیں آج مسلمان بھی اسی مرض میں مبتلا ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کسی بڑے آدمی پر اپنا فضل نازل کرتا ہے تو اس کی سنت ہے کہ وہ اس فضل کا سلسلہ اس کی اولاد کے لئے بھی جاری کرتا ہے مگر آہستہ آہستہ وہ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ہم خدا کے خاص محبوب ہیں اور خدا کے محبوب کے وہ یہ معنے لیتے ہیں کہ جیسے عاشق کہتے ہیں ہمیں مار لو، پیٹ لو، دکھ دے لو ہم تمہیں چھوڑ نہیں سکتے۔اسی طرح وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خواہ ہم خدا کو گالیاں دے لیں، خواہ ہم بے دینی کریں، خواہ ہم اس پر سَو سَو اعتراض کریں، خواہ ہم اس کو برا بھلا کہیں، خواہ ہم اس کے کسی حکم کو نہ مانیں۔اللہ تعالیٰ ہمارا عاشق ہے وہ ہمیں چھوڑ نہیں سکتا۔چنانچہ مختلف شکلوں اور صورتوں میں لوگوں نے یہ عقیدہ قائم کیا ہوا ہے۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کی ایک بہن تھیں جو کسی پیر کی مرید تھیں۔وہ ایک دفعہ آپ سے ملنے کے لئے آئی تو آپ نے اس سے کہا بہن تمہیں نماز کی طرف توجہ نہیں تم آخر خدا کو کیا جواب دو گی۔اس نے کہا میں نے جس پیر کی بیعت کی ہوئی ہے اس نے مجھے کہہ دیا ہے کہ چونکہ تم نے میری بیعت کر لی ہے اس لئے اب تمہیں سب کچھ معاف ہے۔آپ نے اپنی بہن سے کہا۔بہن اپنے پیر صاحب سے پوچھنا کہ خدا کا حکم کس طرح معاف ہو گیا۔نماز کا حکم تو خدا نے دیا ہےا ور وہ قیامت کے دن اس کا حساب لے گا۔آپ کی بیعت کرنے سے یہ حکم کس طرح معاف ہو گیا؟ اس نے کہا بہت اچھا جب میں جاؤں گی تو یہ بات ان سے ضرور دریافت کروں گی۔کچھ مدّت کے بعد وہ پھر آپ سے ملنے کے لئے آئی تو آپ نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ کہ تم نے اپنے پیر صاحب سے وہ بات دریافت کی تھی؟ اس نے کہا ہاں میں اپنے پیر صاحب کے پاس گئی تھی اور ان سے میں نے یہ بات دریافت کی تو وہ کہنے لگے تو نور دین سے ملنے گئی تھی۔معلوم ہوتا ہے یہ شرارت تجھے نور دین نے ہی سکھائی ہے۔میں نے کہا کسی نے سکھائی ہو آپ یہ بتائیں کہ اس کا جواب کیا ہے؟ انہوں نے کہا قیامت کے دن جس وقت خدا تم سے