تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 446
یہی ہے کہ لوگ سنیں اور آگے پہنچائیں، وہ سنیں اور آگے پہنچائیں۔جب تک وہی آگ ان کے دلوں میں بھی نہ لگ جائے، وہی تڑپ ان کے دلوں میں بھی پیدا نہ ہو جائے جو خلیفۂ وقت کے دل میں لگی ہوئی ہو اور جب تک ایک ایک احمدی دوسرے کو پکڑ کر یہ نہ کہے کہ تم میں فلاں غلطی ہے اس کی اصلاح کرو اس وقت تک یہ کام ہو ہی کس طرح سکتا ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی وفات کے قریب جب حجۃ الوداع میں لوگوں کو جمع کرکے ایک تقریر کی تو اس آخری وصیت میں آپ نے یہی کہا کہ فَلْیُبَلِّغُ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ(بخاری کتاب الحج باب الخطبۃ ایام منٰی)۔میں نے بات کہہ دی ہے مگر میری بات سب لوگوں کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتی۔میری بات اسی طرح دوسرے لوگوں تک پہنچ سکتی ہے کہ جو شخص مجھ سے کوئی بات سنے وہ آگے پہنچائے وہ اگلا شخص پھر آگے پہنچائے۔اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہے۔یہی قومی ترقی کا گُر ہے اسی سے قومیں زندہ ہوتی ہیں اِسی سے وہ دنیا میں فتح یاب ہوتی ہیں۔ورنہ خلیفہ خلیفہ ہی ہے خدا نہیں۔اب اس وقت میں جو کچھ کہہ رہا ہوں کراچی والے اسے نہیں سن رہے۔سندھ میں ہماری درجنوں جماعتیں ہیں وہ میری ان باتوں کو نہیں سن رہیں۔پنجاب میں سینکڑوں جگہ پر جماعتیں ہیں وہ ان باتوں کو نہیں سن رہیں۔صوبۂ سرحد میں درجنوں مقامات پر احمدیہ جماعتیں ہیں وہ میری ان باتوں کو نہیں سن رہیں۔ہندوستان اور مشرقی پاکستان میں سینکڑوں جگہ جماعتیں ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی میری یہ باتیں نہیں سن رہی۔اس کے علاوہ ہندوستان سے باہر سینکڑوں جگہ جماعتیں ہیں مگر ان سب تک میری یہ آواز نہیں پہنچ رہی۔بے شک تقریریں چھپ بھی جاتی ہیں مگر زبانی بات کا جو اثر ہو سکتا ہے وہ پڑھنے سے کہاں ہو سکتا ہے۔پس جب ایک شخص سب دنیا تک اپنی آواز نہیں پہنچا سکتا تو پھر کون سا طریق ہے جس سے لوگوں کی اصلاح ہو۔وہ طریق یہی ہے کہ ہر احمدی اپنے آپ کو دوسروں کی اصلاح کا ذمہ دار سمجھے۔وہ رات اور دن اس کام میں لگا رہے اور اس غرض کے لئے بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لئے تیار رہے۔جب تم ایسا کر لو گے تو آسمان سے خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہونا شروع ہو جائے گا اور تمہاری کامیابی تمہارے سامنے آجائے گی۔اس وقت بھی ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ہم ساری دنیا میں تبلیغ کر سکتے ہیں۔بلکہ اگر ہم اپنے اندر جانی قربانی کا صحیح جذبہ پیدا کر لیں، مالی قربانی کا صحیح جذبہ پیدا کر لیں تو ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑ سکتے ہیں۔تیسرے معنے اس آیت کے یہ ہوں گے کہ قریش کے دل میں جو سردی گرمی کے سفروں کی محبت اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے جس کی وجہ سے ان کو بافراغت رزق ملتا ہے اور متمدّن اقوام سے ان کو تعلق پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے اس نعمت کو یاد کر کے انہیں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور خانۂ کعبہ کے رب کی عبادت کرنی چاہیے۔