تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 445
وہ قربانی تمہارے لئے ملامت کا موجب تو ہو سکتی ہے فخر کا موجب نہیں بن سکتی۔اگر وہ علی الاعلان کہہ دیتے کہ ہم قادیان نہیں جا سکتے ہم نے اینٹوں کو کیا کرنا ہے تو خواہ یہ جواب کتنا ہی غلط ہوتا وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جا کر کہہ سکتے تھے کہ ہم نے جوکچھ کیا دیانتداری سے کیا۔ہم یہی سمجھتے تھے کہ مومن کی جان زیادہ قیمتی ہوتی ہے اسے اینٹوں کی خاطر قربان نہیں کیا جا سکتا مگر جب وہ دوسروں کی قربانی کا ذکر سن کر سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگ جاتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ بھی مانتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا اچھا کیا۔لیکن اس کے بعد جب اپنا سوال آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب دوسرے لوگ یہ قربانی کر رہے ہیں تو ہم کیوں کریں۔پس لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ والی آیات یہی سبق دینے کے لئے نازل ہوئی ہیں کہ خدا اب بھی اصحاب الفیل کا واقعہ دکھانے کے لئے تیار ہے مگر تم بھی تو قریش والا نمونہ دکھاؤ۔میرے پاس کئی لوگ آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں خدا ہمیں کب قادیان واپس دے گا اور کب اصحاب الفیل والا نشان ہمارے لئے ظاہر کرے گا۔میں ایسے لوگوں سے پوچھتا ہوں اصحاب الفیل والا نشان کن لوگوں کے لئے ظاہر کیا گیا تھا ان لوگوں کے لئے جنہوں نے سوا دو سو سال تک وہ قربانی کی جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی انہوں نے اپنی جانیں دے دیں مگر مکہ نہ چھوڑا۔وہ بھوک سے نڈھال ہو کر جب موت کے قریب پہنچ جاتے تو اپنا خیمہ اٹھاتے اور مکہ سے باہر چلے جاتے۔ان کے سامنے ان کے بیوی بچے مر جاتے، ان کے سامنے ان کے بھائی مر جاتے، ان کے سامنے ان کی بہنیں مر جاتیں، ان کے سامنے ان کے دوست اور رشتہ دار مر جاتے مگر وہ کسی سے کچھ مانگتے نہیں تھے۔وہ اس تکلیف کی وجہ سے مکہ کو چھوڑتے بھی نہیں تھے۔وہ ایک ایک کر کے مر گئے، مٹ گئے اور فنا ہو گئے مگر انہوں نے مکہ کو نہ چھوڑا۔تم بھی یہ قربانی کرو تو خدا تمہارے لئے بھی اصحاب الفیل والا نشان دکھا دے گا بلکہ وہ تو غیر مومن تھے ان کے لئے دیر کے بعد نشان ظاہر ہوا تم مومن ہو تمہارے لئے یہ نشان جلد ظاہر ہو جائے گا۔مگر پہلے قربانی کی مثال تو ہونی چاہیے پھر تمہارا بھی حق ہو گا کہ تم خدا سے کہو کہ ہم نے اپنی قربانی تو پیش کر دی ہے اب تو بھی ہماری تائید میں اپنا نشان دکھا۔لیکن اپنا فرض ادا نہ کرنا اور خدا تعالیٰ سے کہنا کہ وہ وعدہ پورا کرے یہ کوئی دیانتداری نہیں۔خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا ہے اور یقیناً وہ سب سے زیادہ سچا ہے مگر وہ تبھی نشان دکھاتا ہے جب اس کے مقابلہ میں بندہ بھی قربانی پیش کرتا ہے مگر یہ روح ابھی جماعت میں کہاں ہے؟ جب تک یہ احساس قائم نہ ہو جائے اور پھر اس احساس کو دوسروں کے اندر قائم نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔خلیفہ آخر کیا کر سکتا ہے۔دو یا چار یا پانچ لاکھ یا دس لاکھ آدمیوں کو سمجھانے کے لئے ایک ایک کے گھر پر تو نہیں جا سکتا۔اس کا طریق تو