تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 444

تمام ترقی کے راستوں کو روک کر اس گھر کو آباد رکھنے کے لئے جسے وہ خدا کا گھر سمجھتے ہیں کمائیں آپ اور کھلائیں دوسروں کو۔انفرادی مثالیں تو مل جاتی ہیں مگر قومی طو رپر اور متواتر ایک لمبے عرصہ تک اس قسم کی حیرت انگیز قربانی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ا ورجب تک اس قسم کی مثال پیش نہیں کی جائے گی اس وقت تک دنیا کی الجھنوں کا حل بھی پیدا نہیں ہو گا۔یہاں یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ ایلاف کیوں اتاری۔قریش نے تو جو کچھ کرنا تھا کر لیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آگیا۔اس زمانہ میں قریش کی تعریف کرنے کے تو یہ معنے تھے کہ ان کو اور بھی مغرور کر دیا جائے۔وہ کہہ سکتے تھے کہ دیکھا ہمیں کافر کافر کہتے تھے مگر ہم نے کتنی قربانی کی۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا۔اسی لئے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ تم بھی قربانی کا یہ نمونہ پیش کرو۔پنجابی کی ایک مثال ہے۔’’دِھیئے نی میں تینوں کَہْوَاں۔نُہْویں نی تو کَن رَکھ۔‘‘ یعنی ساس نے جب کوئی بات بہو سے کہنی ہو تو وہ بیٹی کو ڈانٹتی ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ بہو اس بات کو سن لے اور ہوشیار ہو جائے۔اسی طرح قریش کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو توجہ دلائے کہ کسی زمانہ میں ایک کافر اور مشرک قوم مکہ میں آکر بسی اور اس نے مکہ کو بسانے کے لئے ایسی حیرت انگیز قربانی کی جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔بے شک ان میں یہ خوبی خدا تعالیٰ کے تصرّف سے پیدا ہوئی مگر تمہارے ساتھ بھی تو اس کا فضل ہے تمہیں بھی اس قربانی کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے اسلام کے لئے ایسی ہی قربانی پیش کرنی چاہیے اور ایسا ہی نمونہ دکھانا چاہیے جیسے ان لوگوں نے دکھایا۔قادیان کو ہی لے لو۔وہاں رہنے والے رہتے ہیں اور ہماری جماعت کے لوگ دوسروں کے سامنے تعریفیں بھی کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں دیکھا ہم لوگوں نے کیا کیا۔تم سب لوگ مشرقی پنجاب کو چھوڑ کر آگئے مگر ہم اب تک وہاں بیٹھے ہیں لیکن کہنے والے کو یہ خیال نہیں آتا کہ آیا یہ صرف دوسرے کا فرض ہے تیرا فرض نہیں۔وہ دوسروں کے سامنے اس فعل کی تعریف کرتا ہے مگر جب اپنی باری آتی ہے تو کھسکنے لگتا ہے۔صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ محض فخر لینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ورنہ کام کرنے کے لئے وہ تیار نہیں۔وہ غیراز جماعت افراد میں بیٹھتا ہے تو کہتا ہے تم نے کبھی غور کیا کہ ہماری جماعت نے قادیان میں کیسا شاندار نمونہ دکھایا ہے۔ہماری جماعت کتنی بڑی قربانی کر رہی ہے۔وہ سنتا ہے اور تعریف کرتا ہے اس بیچارے کو کیا پتہ کہ ان لوگوں کی تنظیم کیسی ہے۔اگر اسے پتہ ہوتا تو وہ آگے سے جواب دیتا کہ وہ تو قربانی کر رہے ہیں تم یہ بتاؤ کہ تم کیا کر رہے ہو؟ مگر اسے چونکہ علم نہیں ہوتا وہ محض ذکر سن کر متاثر ہو جاتا ہے۔حالانکہ سوال یہ ہے کہ تم نے اس قربانی میں کیا حصہ لیا۔اگر تم نے اس قربانی میں کوئی حصہ نہیں لیا تو