تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 439
کچھ کمایا بھی کرے۔یہ کیا کہ سارا دن مسجد میں ہی بیٹھا رہتا ہے کوئی کام نہیں کرتا۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا معلوم کہ خدا اس کے طفیل تمہیں بھی رزق دیتا ہو۔حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ نے یہی واقعہ ہمارے نانا جان مرحوم کو سنایا چنانچہ اس کے بعد نانا جان مرحوم نے دنیوی تعلیم کا ارادہ چھوڑ کر انہیں اسی کام پر لگا دیا۔غرض کچھ لوگ مکہ والوں میں سے سفروں پر جاتے تھے اور کمائی کر کے لاتے تھے اور باقی لوگ مکہ میں ہی رہتے۔مکہ میں رہنے والوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ قافلہ والوں کے کام میں بھی برکت پیدا کر دیتا اور اس طرح ان کا بھی گذارہ ہو جاتا اور مکہ والے بھی پلتے رہتے۔بہرحال مکہ والوں کا اکثر حصہ وہیں مکہ میں رہتا تھا صرف ایک حصہ تجارت کرتا اور وہ جو کچھ کما کر لاتا وہ مکہ والوں میں بانٹ دیتا۔یہ چیز کوئی معمولی چیز نہیں دنیا میں اس کی کتنی مثالیں پائی جاتی ہیں۔اگر یہ محض ایک انسانی تدبیر تھی تو دیکھنا یہ چاہیے کہ دنیا میں اور کہاں کہاں اس طریق پر عمل ہوتا ہے یقیناً دنیا کی اور کسی قوم نے وہ مثال قائم نہیں کی جو مکہ کے یہ لوگ قائم کر چکے ہیں۔ہماری جماعت کو ہی دیکھ لو جب وقف کی تحریک کی جاتی ہے تو ان میں سے کتنے نکلتے ہیں۔دعویٰ یہ ہے کہ وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ(الجمعۃ:۴) والی جماعت ہم ہی ہیں، دعویٰ یہ ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کی جماعت ہیں مگر ان میں سے کتنے دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرتے ہیں۔دوسروں کے کام کو دیکھ کر یہ کہنا کہ یہ معمولی بات ہے اور چیز ہے اور حقیقت کو مدّ ِنظر رکھنا اور بات ہے۔کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ مکہ والوں نے جو کچھ کیا وہ ایک معمولی بات ہے مگر سوال یہ ہے کہ آج بھی اس مثال پر کتنے لوگ عمل کر سکتے ہیں یا کتنے لوگ عمل کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔کولمبس نے جب امریکہ دریافت کیا تو لوگوں نے حسد کی وجہ سے اس کے اس فعل کی تحقیر شروع کر دی۔چنانچہ وہ جہاں بھی بیٹھتا لوگ اس پر طنز کرتے کہ کولمبس نے بڑی دریافت کی ہے۔وہ جہازمیں بیٹھا اور سامنے ایک ملک آگیا۔بھلا اس دریافت میں اس نے کیا کیا ہے۔ایک دفعہ کسی دعوت میں بہت سے لوگ شامل تھے اور مذاقیہ رنگ میں آپس میں گفتگو ہو رہی تھی کہ کولمبس نے اپنی جیب میں سے ایک انڈا نکالا اور کہا اسے میز پر کھڑا کر دیں۔جن لوگوں نے یہ کوشش کی وہ ناکام رہے۔جب وہ سارا زور لگا چکے اور انڈا کھڑا نہ ہوا تو کولمبس نے جیب میں سے ایک بڑا سا سؤا نکالا اور انڈے میں سوراخ کر دیا۔سوراخ کی وجہ سے اس میں سے لعاب نکل آیا۔کولمبس نے اس لعاب کے ذریعہ سے انڈے کو میز پر کھڑا کر دیا۔اس پر کولمبس نے کہا دیکھا انڈا کھڑا ہو گیا یا نہیں۔تم کہتے تھے کہ امریکہ کا سفر کولمبس نے کیا اور امریکہ دریافت ہو گیا ہمیں یہ موقعہ نہ ملا اس لئے ہم رہ گئے۔مگر اس انڈے کو کھڑا کرنے کا تو تم کو موقعہ مل گیا تھا تم اسے کھڑا نہ کر سکے(Admiaral of the Ocean Sea vol:1 P:349)۔تو حقیقت یہ ہے کہ کام