تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 440

کرنا اور چیز ہے اور یہ کہہ دینا کہ ایسا کام تو ہر شخص کر سکتا ہے اور بات ہے۔اگر یہ ایسی ہی آسان بات ہے تو دنیا میں اور کسی نے وہ کیوں نہ کر لیا جو مکہ والوں نے کیا تھا۔کیا دنیا کے پردہ پر آج کوئی شہر، کوئی قصبہ اور کوئی بستی ایسی ہے جس میں یہ طریق رائج ہو کہ چند لوگ روزی کما کر لاتے ہوں اور پھر شہر والوں کو کھلا دیتے ہوں اور ان سے کہتے ہوں کہ تم اطمینان سے یہاں بیٹھے رہو ہم کمائیں گے اور تمہیں کھلائیں گے ہم نے تو دیکھا ہے احمدیوں میں سے بھی بعض ایسے بے حیا اور بے شرم ہو تے ہیں کہ وہ بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیتے ہیں کہ مبلّغوں کا کیا ہے وہ تو پیسے لے کر کام کرتے ہیں۔ان بے حیاؤں سے کوئی پوچھے کہ تم بغیر پیسے کے کام نہ کرو وہ پیسے لے کر کام نہ کریں تو دین کا کام کون کرے پھر تو دین کا خانہ ہی خالی ہو جائے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح تم کما سکتے تھے اسی طرح وہ بھی کما سکتے تھے یہ کہنا کہ غربت کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں سکتے تھے یا دنیا میں ترقی نہیں کر سکتے تھے بالکل جاہلانہ بات ہے۔ڈاکٹر اقبال کے باپ بہت ہی معمولی آدمی تھے۔ٹوپیاں بنایا کرتے تھے مگر ان کا ایک بیٹا انجینئر ہو گیا اور دوسرا علّامہ کہلانے لگا۔اسی طرح سید احمد صاحب کیا تھے؟ ایک بہت ہی غریب آدمی کے لڑکے تھے مگر ترقی کر کے کہیں کے کہیں جا پہنچے(حیات جاوید صفحہ ۹۵)۔پس یہ کہنا کہ وہ دنیا میں ترقی نہیں کر سکتے تھے اس لئے دین کی طرف چلے گئے بالکل غلط ہے۔دنیا میں مثالیں موجود ہیں کہ بڑے بڑے غریب لوگوں کی اولادیں بڑے بڑے اعلیٰ مقام تک جاپہنچیں۔پھر سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے دین میں اپنی قابلیت ثابت کر دی ہے تو اسی طرح وہ دنیوی کاموں میں بھی اپنی قابلیت ظاہر کر سکتا تھا مگر اس نے یہی چاہا کہ وہ خدا کا کام کرے اور دنیا کے کام کو نظرانداز کر دے۔اصل بات یہ ہے کہ محض اس حسد اور غصہ کی وجہ سے کہ لوگ ہمیں یہ کیوں طعن کرتے ہیں کہ ہم دین کی خدمت نہیں کرتے۔بعض لوگ اس قسم کے اعتراضات شروع کر دیتے ہیں کہ مبلّغوں کا کیا ہے وہ بھی تو نوکری کرتے ہیں حالانکہ یہ انتہا درجہ کی بے شرمی کی بات ہے۔پس یہ کہنا کہ مکہ والوں نے اگر ایسا کیا تو اپنی حالت کو درست کرنے کے لئے کیا اس میں قربانی کی کون سی بات ہے محض واقعات پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے اگر ایسا ہر شخص کر سکتاہے تو سوال یہ ہے کہ باقی قومیں ایسا کیوں نہیں کر لیتیں اور وہ کیوں خاموش ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اس خوبی کو مکہ والوں کی طرف منسوب کریں تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ نیک جماعت تھی کیونکہ باوجود اس کے کہ وہ کافر تھے، باجود اس کے کہ وہ بے دین تھے انہوں نے وہ کچھ کیا جو کئی مسلمانوں نے نہیں کیا۔انہوں نے وہ کچھ کیا جو کئی احمدیوں نے بھی نہیں کیا۔اس رنگ کی قربانی میں احمدی یقیناً مکہ والوں کے برابر نہیں ہیں بلکہ اس قربانی میں صحابہؓ بھی مکہ والوں کے برابر نہیں۔اور اگر اس قربانی میں وہ صحابہ