تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 438

اس کو دینی تعلیم دلوا دیں۔اس پر نانا جان مرحوم نے اپنی طرف سے یا نانی امّاں کی طرف سے کہا کہ پھر تو یہ اپنے بھائی کے ٹکڑوں پر پلے گا۔جب انہوں نے یہ بات کہی تو حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا بعض دفعہ ایک شخص کو دوسرے کی خاطر روٹی دیتا ہے آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ اگر یہ دینی خدمت میں مشغول رہا تو اپنے بھائی کے ٹکڑوں پر پلے گا۔آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ یہ دین کی خدمت کرے گا تو اس کے طفیل اللہ تعالیٰ اس کے بھائی کی روزی میں بھی برکت پیدا کر دے گا۔پھر آپ نے حضرت ابوہریرہؓ کا واقعہ سنایا۔جب وہ اسلام لائے تو ان کے دل میں شوق پیدا ہو اکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھوں اور آپ کی باتیں سنوں۔چنانچہ وہ رات دن مسجد میں بیٹھے رہتے تھے تاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی باہر تشریف لائیں اور کوئی بات کریں تو اس کے سننے سے محروم نہ رہیں۔ان کی روایات کی کثرت کو دیکھ کر بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہؓ بڑے پرانے صحابی تھے حالانکہ وہ پرانے صحابی نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا ت سے صرف تین سال پہلے ایمان لائے تھے(اسد الغابۃ، ابوھریرۃ) مگر روایتیں سب سے زیادہ انہی کی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ پرانے پرانے صحابیوں کو نہیں جانتے مگر ابوہریرہؓ کو جانتے ہیں۔کیونکہ حدیثوں میں بار بار آتا ہے کہ ابوہریرہؓ نے یہ کہا ابوہریرہ نے وہ کہا۔غرض وہ بہت بعد میں اسلام لائے ہیں لیکن ان کے دل میں دین سیکھنے کا جوش تھا جب وہ ایمان لائے تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے متعلق انہوں نے یہ عہد کر لیا کہ چونکہ اور لوگوں نے آپ کی بہت سی باتیں سن لی ہیں اور مجھے آخر میں ایمان لانے کی توفیق ملی ہے اس لئے میں اب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔چنانچہ جس طرح قریش مکہ میں آکر بیٹھ گئے تھے وہ بھی مسجد میں آکر بیٹھ گئے اور انہوں نے عہد کیا کہ جس طرح بھی ہو سکا میں دین کی خدمت کروں گا دنیا کا کوئی کام نہیں کروں گا۔ان کا ایک بھائی بھی مسلمان ہوچکا تھا۔چونکہ یہ سب کاروبارچھوڑ کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آبیٹھے تھے اس لئے کچھ مدت تک تو وہ اپنے ایمان کے جوش میں اپنے بھائی کو کھانا پہنچاتا رہا۔عربوں کی زندگی بہت ہی سادہ ہوا کرتی تھی وہ کھجوریں کھا کر پانی پی لیتے اور اس کو غذا کے لئے کافی سمجھتے یا کبھی سوکھا گوشت مل جاتا تو وہی کھا کر پانی پی لیتے(ابن ماجہ کتاب الاطعمہ باب القدید)۔غرض بہت ہی سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور ان کو کھانا پہنچانا کوئی مشکل امر نہ تھا۔مگر کچھ مدت تک ایمان کے جوش میں انہیں کھانا پہنچانے کے بعد حضرت ابوہریرہؓ کا بھائی تنگ آگیا۔(حضرت ابوہریرہؓ ایک عیسائی خاندان میں سے تھے اور ان کی والدہ بھی عیسائی تھیں) جب اس نے تنگی محسوس کی تو ایک دن وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ ابوہریرہؓسے کہیے کہ وہ