تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 420
اور اس عہد کا کوئی نہ کوئی مفہوم تو ہونا چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ عہد ہم سے صرف اتنا تقاضا نہیں کرتا کہ ہم کسی ایک پہلو میں دین کو دنیا پر مقدّم کریں بلکہ ہر بات میں اور اپنے ہر کام میں ہمارا فرض ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدّم کریں۔مگر سوال تو یہ ہے کہ جو شخص اپنے ہر کام میں دین کو دنیا پر مقدّم نہیں کر سکتا اسے کم از کم یہ تو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کسی ایک کام میں ہی دین کو دنیاپر مقدّم رکھے تاکہ وہ کہہ سکے کہ میں اس عہد کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔یہ کوشش خواہ وہ مال کے لحاظ سے کرے، خواہ تجارت کے لحاظ سے کرے، خواہ پیشہ کے لحاظ سے کرے، خواہ وطن کی محبت کے لحاظ سے کرے، خواہ ملازمت کے لحاظ سے کرے، خواہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے تعلقات کے لحاظ سے کرے، خواہ عبادت کے لحاظ سے کرے، خواہ قربانی اور ایثار کے لحاظ سے کرے، بہرحال کوئی ایک چیز تو ایسی ہونی چاہیے جسے وہ دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہو اور کہہ سکتا ہو کہ جن کاموں کا مجھے موقع ملا ہے ان میں مَیں نے دین کو دنیا پر مقدّم کر لیا ہے اور جو باقی کام ہیں ان میں بھی میں پوری طرح تیار ہوں کہ اس عہد کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کروں۔لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا دعویٰ ایمان محض ایک منافقانہ فعل ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتا۔تم قریش کے اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ باوجود اس کے کہ یہ لوگ سچے دین کے حامل نہیں تھے، باوجود اس کے کہ یہ لوگ بُت پرست تھے، باوجود اس کے کہ یہ لوگ بے دین تھے انہوں نے کتنی عظیم الشان قربانی کی۔یہ لوگ اپنی قوم پر بوجھ نہیں بنے انہوں نے کہا ہم خدا کے لئے آئے تھے ہماری قوم کا کیا حق ہے کہ وہ ہماری خدمت کرے۔وہ خیمہ اٹھا کر مکہ سے باہر چلے جاتے۔باپ کے سامنے اس کا بیٹا مرتا، ماں کے سامنے اس کی بیٹی مرتی، بیوی کے سامنے اس کا خاوند مرتا، بچوں کے سامنے ان کا باپ مرتا، دوست کے سامنے دوست اور رشتہ دار کے سامنے رشتہ دار مرتا مگر کیا مجال کہ ان کی زبان پر کوئی شکایت آتی۔کیا مجال کہ وہ اس جگہ کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتے۔اتنی بڑی مصیبت دیکھنے کے بعد بھی انہوں نے اس جگہ کو نہیں چھوڑا۔وہ کسی معجزہ کو دیکھ کر وہاں نہیں آئے تھے، وہ کسی نشان کو دیکھ کر وہاں نہیں آئے تھے، وہ کسی تازہ تعلیم پر ایمان لا کر وہاں نہیں آئے تھے، دو ہزار سال پہلے ان کے دادا ابراہیمؑ نے ایک بات کہی تھی اور وہ اپنے دادا کے وعدہ کے مطابق اس سرزمین میں آبسے۔ان پر فاقے آئے مگر انہوں نے اس جگہ کو نہ چھوڑا۔ان میں فاقہ سے موتیں ہوئیں مگر انہوں نے اس جگہ کو نہ چھوڑا۔انہوں نے سالاہا سال غربت اور تنگی اور افلاس میں اپنی زندگی کے دن بسر کئے۔ان کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا ان کے پاس گذارہ کا کوئی سامان نہیں تھا مگر انہوں نے کہا ہم اس مقام کو اب نہیں چھوڑ سکتے۔ہم مٹ جائیں گے ہم ایک ایک کر کے فنا ہو جائیں گے مگر ہم مکہ کو چھوڑ کر کہیں باہر نہیں جائیں گے۔یہ اتنی عظیم الشان