تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 421
قربانی ہے کہ یقیناً اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔یمن میں تجارت کے قافلے بھجوانے کی ابتداء بہرحال اسی طرح مکہ میں ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ہاشم بن عبد مناف جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑدادا تھے ان کا وقت آگیا۔جب انہوں نے یہ حال دیکھا تو سمجھا کہ اس طرح تو قوم فنا ہو جائے گی۔انہوں نے لوگوں کو جمع کیا اور ان میں تقریر کی کہ جو طریق تم نے ایجاد کیا ہے یہ اپنی ذات میں تہوّر کے لحاظ سے تو بڑا اچھا ہے مگر اس طرح وہ کام پورا نہیں ہو گا جس کے لئے تم لوگ مکہ میں آئے ہو۔اگر یہی طریق جاری رہا اور تم میں سے اکثر مر گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مکہ خالی ہو جائے گا بے شک جوش و خروش اور عزم کی پختگی کے لحاظ سے یہ کام ایسا شاندار ہے کہ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے مگر عقل کے لحاظ سے یہ اچھا نہیں کوئی ایسی تدبیر ہونی چاہیے کہ ہم سب لوگ مکہ میں بھی رہیں اور اس قسم کی موت بھی ہم میں واقعہ نہ ہو۔غالباً ان کے ذہن میں یہ خیال بھی آیا ہو گا کہ اگر اس طریق کو جاری رہنے دیا گیا تو دوسری قوموں پر اس کا برا اثر پڑے گا اور وہ کہیں گی یہ لوگ خدا کے لئے مکہ میں بیٹھے ہوئے تھے مگر بھوکے مر گئے۔پس اس طرح خدا کا احترام کم ہو جائے گا اور لوگ یہ سمجھیں گے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی کرنے کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔ہمیں اپنے آپ کو اس طرح رکھنا چاہیے کہ ہمارا اعزاز دنیا میں قائم ہو اور دوسرے عرب قبائل سے ہماری حالت اچھی ہو۔مکہ والوں نے ہاشم کی بات سن کرکہا آپ جو تدبیر بتائیں ہم اسے ماننے کے لئے تیار ہیں۔آپ نے فرمایا میری تجویز تو یہ ہے کہ ہم لوگ رہیں تو مکہ میں ہی مگر اپنی حالت کو بہتر بنانے کے لئے تجارت شروع کر دیں۔یوں بھی اپنی ذاتی اغراض کے لئے ہم بعض دفعہ سفر کر لیتے ہیں اگر آئندہ ہم بعض سفر محض تجارت کی خاطر کریں تو اس سے ہماری گری ہوئی حالت بہت کچھ سدھر جائے گی اور ہماری پریشانی دور ہو جائے گی۔(درمنثور سورۃ قریش اٰیٰت ۱تا۴) زراعت کی تجویز آپ نے اس لئے نہ کی کہ مکہ میں زراعت کی کوئی صورت نہیں تھی دوکانداری کی تجویز آپ نے اس لئے نہ کی کہ دوکاندار کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ رات دن دوکان پر بیٹھا رہے۔آپ نے سمجھا کہ اگر لوگوں نے دوکانداری شروع کر دی تو خدمت کعبہ کا وہ موقع جو اب انہیں مل رہا ہے اس سے وہ محروم ہو جائیں گے چنانچہ آپ نے یہ تجویز کی کہ قوم کا روپیہ لے کر ہر سال دو سفر کئے جائیں۔ایک سفر سردی کے موسم میں کیا جائے جو یمن کی طرف ہو اور ایک سفر گرمی کے موسم میں کیا جائے جو شام کی طرف ہو۔شام بوجہ سرد مقام ہونے کے گرمی کے سفر کے لئے موزوں تھا اور یمن بوجہ گرم مقام ہونے کے سردی کے سفر کے لئے موزوں تھا۔آپ نے تجویز کیا کہ ہر سال اہل مکہ کے نمائندہ قافلے یہ دو سفر محض تجارت کی غرض سے کیا کریں اور تجارت بھی قوم کے لئے کریں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ