تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 414
نے اپنی زمینیں چھوڑیں، گلہ بانی چھوڑی، زمینداری چھوڑی، تجارت چھوڑی اور ایک وادیٔ غیر ذی زرع میں جہاں آمدن کی کوئی صورت نہیں تھی آبیٹھے۔میں سمجھتا ہوں اس قربانی کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی کہ ایک قوم کی قوم اپنے پیشے چھوڑ کر محض اس لئے ایک وادیٔ غیر ذی زرع میں آبیٹھی کہ ان کے دادا ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کو یہ نصیحت کی تھی کہ تم مکہ میں رہو اور جو لوگ یہاں حج اور طواف اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے آئیں ان کی خدمت کرو۔یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی جو انہوں نے کی۔پس چونکہ یہ لوگ متفرق ہونے کے بعد پھر اپنے گھر بار چھوڑ کر مکہ میں جمع ہو گئے تھے تاکہ ابراہیمی وعدہ کو پورا کریں اس لئے ان کا نام قریش رکھا گیا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں قَرَشَ کے معنے جمع کرنے کے ہیں پس قریش وہ قبیلہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے مکہ میں جمع کیا گیا اور اسی لئے ان کا نام قریش ہوا۔انہیں اس لئے قریش نہیں کہتے تھے کہ وہ باقی تمام قبائل عرب پر غالب تھے اور قِرْش کی طرح ان کو کھا جاتے تھے۔قریش کو عربوں میں یہ شہرت اور عزت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب زمانہ میں حاصل ہوئی ہے ورنہ اس سے پہلے تو یہ لوگ مجاوروں کی طرح وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور قبائلِ عرب پر ان کو کوئی غلبہ حاصل نہیں تھا۔پس قریش کے معنے ہیں وہ قبیلہ جو اردگرد سے اکٹھا کر کے قصی بن کلاب بن نضر نے مکہ میں آبٹھایا تھا یا یوں کہو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کچھ اولاد قریش کہلائی کیونکہ وہ اردگرد سے لا کر مکہ میں بیت اللہ کی خدمت کے لئے لا بٹھائی گئی تھی۔میں اوپر بتا چکا ہوں کہ قریش کا نام قریش کیوں پڑا۔میں نے بتایا ہے کہ اس بارہ میں میری تحقیق یہ ہے کہ ان کا یہ نام کسی سمندری جانور کی وجہ سے نہیںرکھا گیا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قصی بن کلاب کے وعظ کرنے پر اور یہ توجہ دلانے پر کہ چونکہ ہمارے دادا ابراہیمؑ نے ہمیں مکہ میں رہنے کا ارشاد فرمایا تھا اور ہمارے سپرد خانۂ کعبہ کی خدمت کی تھی ہمیں چاہیے کہ ہم اردگرد کے علاقوں کو چھوڑ کر مکہ میں جا بسیں اور وہیں اپنی زندگی بسر کریں۔وہ مکہ میں آکر رہنے لگ گئے تھے۔پس چونکہ وہ قصی بن کلاب بن نضر کے توجہ دلانے پر مختلف مقامات سے اٹھ کر مکہ میں جا کر بس گئے اس لئے وہ قریش کہلائے یعنی جمع شدہ لوگ۔اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ قریش تو تصغیر کا صیغہ ہے اور معنے یہ ہیںکہ مکہ میں جمع ہو جانے والا ایک چھوٹا سا ٹکڑا یا ایک چھوٹا سا گروہ پھر کیا وجہ ہے کہ آلِ اسماعیل کو ایک چھوٹا سا گروہ یا چھوٹا سا ٹکڑا کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حکم تو سارے بنو اسمٰعیل کو تھا کہ وہ مکہ میں رہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور پرستش کریں اور جو لوگ حج اور طواف کے لئے آئیں ان کی خدمت کریں۔مگر چونکہ بنوکنانہ میں سے صرف نضر بن کنانہ کی اولاد مکہ میں آکر بسی اور چونکہ وہ سارے بنواسماعیل ؑ میں سے ایک چھوٹا سا گروہ تھا اس لئے وہ قریش