تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 413
سے تعلق رکھتی ہے چنانچہ جب ہم روایتوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شیعوں کی روایت ہے۔چونکہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓ مالک بن نضر کی اولاد نہیں بلکہ ایک دوسرے بیٹے کی اولاد ہیں۔اس لئے ان کو قریش میں سے نکالنے کے لئے ان کے دشمنوں نے یہ روایت گھڑی ہے وہ اس روایت کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اَلْاَئِـمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ(مسند احمد بن حنبل مسند ابو برزۃ) مگر ابوبکرؓ اور عمرؓ دونوں قریش میں سے نہیں۔چنانچہ انہوں نے اس قسم کی روایتیں گھڑ کر شامل کر دیں کہ نضر کی اولاد میں سے صرف مالک کی اولاد چلی ہے اس لئے یہ قریشی ہی نہیں ہیں۔پس یہ حدیث شیعہ سنی جھگڑے کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ قصی بن حکیم بن نضر کی اولاد تھے(المعارف اخبار ابی بکر رضی اللہ عنہ و عـمر بن الخطاب)۔پس ان کو قریشیوں میں سےنکالنے کے لئے یہ روایت وضع کی گئی ہے کہ قریش صرف مالک بن نضر کی اولاد کا نام ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے تو حضرت اسمٰعیلؑ کو خانہ کعبہ میں اس لئے بٹھایا تھا کہ وہ خانۂ کعبہ کی حفاظت کریں۔لیکن حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد میں آگے یہ جوش دیرتک قائم نہ رہا جیسے آج بعض سید چور بھی ملتے ہیں اور ڈاکو بھی ملتےہیں۔کچھ نسل تک تو انہوں نے تو اس وعدہ کو یاد رکھا لیکن اس کے بعد وہ اس وعدے کو بھول گئے اور حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد سارے عرب میں پھیل گئی۔بلکہ عرب کے علاوہ شام تک بھی چلی گئی۔آخر قربِ زمانۂ نبویؐ میں قصی بن حکیم بن نضر کے دل میں خیال آیا کہ ابراہیمی وعدہ کو تو ہم پورا نہیں کر رہے ہمارے دادا نے تو یہ کہا تھا کہ تم یہاں رہو۔اس گھر کی صفائی رکھو۔خانۂ کعبہ کے حج اور طواف کے لئے جو لوگ آئیں ان کی خدمت کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنا وقت گذارو مگر ہم ادھر ادھر بکھر گئے اور اس خدمت کو جو ہمارے دادا نے ہمارے سپرد کی تھی بھول گئے۔یہ خیال ان کے دل میں اتنے زور سے پیدا ہوا کہ انہوں نے بنو نضر کے اندر یہ تحریک شروع کی کہ آؤ ہم لوگ اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر مکہ میں جابسیں اور خانہ کعبہ کی خدمت کریں۔یہ مناسب نہیں کہ ہم دنیوی اغراض کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وعدہ کو بھول جائیں اور جو نصیحت انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی اس کی پروا نہ کریں۔انہوں نے جب ہمارے سپرد یہ کام کیا تھا کہ ہم خانۂ کعبہ کی خدمت کریں تو ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم مکہ میں چلے جائیں اور خانۂ کعبہ کی خدمت کریں۔چنانچہ ان کی قوم نے ان کی بات مان لی اور وہ سب مکہ میں اکٹھے ہوگئے۔یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی جو انہوں نےکی۔وہ باہر بڑی بڑی اچھی چراگاہوں میں رہتے تھے، وہ تجارتیں بھی کرتے تھے، وہ زمینداریاں بھی کرتے تھے۔وہ اور کئی قسم کے کاروبار میں بھی حصہ لیتے تھے مگر یک دم ساری قوم