تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 412

مفسرین میں قرطبی جو نہایت اعلیٰ درجہ کا مفسر ہے وہ بھی اندلسی ہے۔اور علامہ ابوحیان جو بحرمحیط کے مصنف ہیں وہ بھی اندلسی ہیں میرے نزدیک پرانی تفسیروں میں سے بحرمحیط کے پایہ کی کوئی اورتفسیر نہیں۔علامہ ابوحیان احمدیت سے پہلے ایک ہی شخص ہوئے ہیں جنہوں نے قرآن کریم میں ترتیب کا دعویٰ کیا ہے اور انہوں نے کوشش کی ہے کہ اپنے اس دعویٰ کو ثابت کریں اور گو وہ ہمارے مقام تک نہ پہنچے ہوں مگر بہرحال وہ ایک ہی مفسر ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ قرآن کریم بے جوڑ کتاب نہیں بلکہ سارے قرآن میں ایک ترتیب پائی جاتی ہے۔اسی طرح نحو اور ادب میں بھی وہ امام کہلاتے ہیں۔بہرحال اندلسی مفسر قرطبی نے بھی یہی معنے کئے ہیں۔افسوس ہے کہ ان کی ساری تفسیر چھپی نہیں۔مصر میں ان کی تفسیر کی ابھی صرف دو تین جلدیں چھپی ہیں جو میرے پاس موجود ہیں باقی تفسیر ابھی تک نہیں چھپی۔مگر جو چھپی ہے وہ اتنی خطرناک طور پر غلط ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔کوئی حدیث ایسی نہیں جو صحیح لکھی ہوئی ہو ساری کی ساری غلط ہیں۔پہلے انسان اعتبار کر کے حدیث نقل کرلیتا ہے مگر بعد میں وہ غلط نکل آتی ہے۔معلوم ہوتا ہے اس تفسیر کو چھاپتے وقت احتیاط سے کام نہیں لیا گیا۔بہرحال قرطبی نے بھی یہی کہا ہے کہ قریش قَرَشَ سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں ادھر ادھر سے جمع کیا۔ذبیانی نے بھی یہ معنے کئے ہیں مگر ساتھ ہی د وسرے معنے بھی لکھ دیئے ہیں۔قریش دراصل نام ہے بنو نضر بن کنانہ کا۔جیسے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مروی ہے۔چنانچہ آپ سے جب سوال کیا گیا کہ قریش کن کو کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا اَلْقُرَیْشُ مِنْ وُلْدِ النَّضْـرِ۔نضر کی جو اولاد ہے وہ قریشی کہلاتی ہے۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰی کِنَانَۃَ مِنْ بَنِی اسْـمٰعِیْلَ وَاصْطَفٰی مِنْ کِنَانَۃَ قُرَیْشًا وَاصْطَفٰی مِنْ قُرَیْشٍ بَنِیْ ہَاشَـمٍ وَاصْطَفَانِیْ مِنْ بَنِیْ ہَاشَـمٍ (سراج منیر تفسیر سورۃ قریش) یعنی اللہ تعالیٰ نے کنانہ کو بنی اسمٰعیل میں سے فضیلت دی۔کنانہ میں سے قریش قبیلہ کو فضیلت دی۔قریش قبیلہ میں سے اللہ تعالیٰ نے بنو ہاشم کو فضیلت دی اور بنو ہاشم میں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے فضیلت دی۔اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بنوکنانہ قرار دیا ہے اور دوسری حدیث میں آتا ہے کہ مِنْ وُلْدِ النَّضْـرِ(مجمع البیان زیر آیت لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ)۔دراصل کنانہ کے کئی بیٹے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تشریح فرما دی کہ ان میں سے صرف نضر کی اولاد قریش کہلاتی ہے ساری اولاد نہیں۔بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قریش صرف مالک بن نضر کی اولاد کا نام ہے۔بلکہ بعض نے یوں بھی کہا ہے کہ نضر کی اولاد میں سے صرف مالک کی ہی اولاد چلی ہے باقی کی نہیں۔مگر یہ تاریخی شعبدہ بازی ہے جو مذہبی جھگڑوں