تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 408

آئے اور کہے کہ میں اس بات کو اچھا سمجھاتا ہوں کہ نیکی محض نیکی کی خاطر کی جائے تو ہم کہیں گے ٹھیک ہے قرآن کریم میں یہ تعلیم موجود ہے چنانچہ ہم یہ آیت نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں گے۔اگر دوسرا فلاسفر یہ کہے کہ میں تو اس بات کو نیکی سمجھتا ہوں کہ دوسروں کی خاطر تکلیف اٹھا کر کام کیا جائے۔تو ہم کہیں گے ٹھیک ہے قرآن کریم میں یہ تعلیم موجود ہے چنانچہ ہم یہی آیت نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں گے۔پھر کوئی تیسرافلسفی ہمارے پاس آجائے اورکہے کہ نیکی وہ ہے جو کسی ہائر آئیڈیل کے لئے کی جائے تو ہم کہیں گے ٹھیک ہے قرآن کریم کی یہی تعلیم ہے چنانچہ ہم یہی آیت نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں گے۔اگر ہٖ کی جگہ طعام کا لفظ ہوتا یا اللہ کا لفظ ہوتا یا اِطْعَام کا لفظ ہوتا تو گو ایک معنے تو آجاتے مگر باقی دو معنے باطل ہوجاتے۔یہی حکمت ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہاں ضمیر استعمال کی ہے کوئی اسم استعمال نہیں کیا۔ورنہ وہ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّ اللّٰہِ بھی کہہ سکتا تھا وہ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّ الطَّعَامِ بھی کہہ سکتا تھا۔وہ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّ الْاِطْعَامِ بھی کہہ سکتا تھا مگر اس نے یہ نہیں کہا بلکہ يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ کہا تاکہ ہٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی چلی جائے، طعام کی طرف بھی چلی جائے اور اطعام کی طرف بھی چلی جائے۔پس قرآن کریم کا یہ ایک بہت بڑا کمال ہےکہ وہ مختصر الفاظ میں اتنا مضمون بھر دیتا ہے کہ اور لوگ بڑی بڑی کتابوں میں بھی اس کو بیان نہیں کر سکتے۔پس مختصر پُر از معانی کلام پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ہاں جہاں بعض معنے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہوتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کا مقصد کسی خاص معنوں کی طرف انسانی ذہن کو لے جانا ہوتا ہے تو وہاں فوراً اشارہ ہو جاتا ہے کہ صرف فلاں معنے لئے جائیں اور معنے نہ لئے جائیں بلکہ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ قرآن کریم میں بعض جگہ ایک ایسا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنے ہو سکتے ہیں تو ساتھ ہی قرآن کریم کی طرف سے اس کے معنے بھی دیئے ہوئے ہوتے ہیں یہ بتانے کے لئے کہ یہاں یہ لفظ صرف ان معنوں میں استعمال ہوا ہے دوسرے معنے مرا دنہیں لئے گئے۔اب پیشتر اس کے کہ میں ان آیات کی تفسیر کروں میں لفظ قریش کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔قُرَيْشٍ۔قُرَیْش کا لفظ قَرَشَ سے نکلا ہے جس کا مضارع دونوں طرح آتا ہے قَرَشَ یَقْرُشُ اور قَرَشَ یَقْرِشُ۔قَرْشًا ان کا مصدر ہے۔اور قَرَشَ کے معنے ہوتے ہیں قَطَعَہٗ اس کو کاٹ دیا۔اور قَرَشَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں جَـمَعَہٗ مِنْ ہُنَا وَمِنْ ھُنَا وَ ضَـمَّ بَعْضَہٗ اِلٰی بَعْضٍ۔چیز کو کچھ یہاں سےاور کچھ وہاں سے لیا اور اکٹھا کر کے رکھ دیا۔اور قَرَشَ مِنَ الطَّعَامِ کے معنے ہوتے ہیں اَصَابَ مِنْہُ قَلِیْلًا تھوڑا سا کھانا کھا لیا۔اور قَرَشَ الْـجَیْشَ بِالرِّمَاحِ کے معنے ہوتے ہیں طَعَنُوْا بِـھَا۔لشکر نے نیزوں کے ساتھ اپنے دشمن کو مارا اور قَرَشَ