تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 407
جائے تو یقیناً اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ہی ہم ایک کتاب لکھ سکتے ہیں۔چنانچہ اس آیت میں جو فلسفہ بیان ہوا ہے اس کے ایک ایک حصہ پر یورپ کے بعض فلاسفروں نے مستقل طور پر بعض کتابیں لکھی ہوئی ہیں۔مثلاً اس آیت سے پہلے خدا تعالیٰ کا ذکر آتا ہے اس لئے اس آیت کے یہ معنے بنیں گے کہ ’’وہ کھانا کھلاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے۔‘‘ پھر قریب ہی طعام کا لفظ ہے اس لئے ضمیر اس کی طرف بھی جا سکتی ہے۔اس لحاظ سے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ’’وہ کھانا کھلاتے ہیں باوجود کھانے کی محبت کے‘‘ یعنی خود بھوکے ہوتے ہیں انہیں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے مگر بھوکے رہ کر اور تکلیف اٹھا کر بھی دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں۔تیسرے معنے اس کے یہ بنتے ہیں کہ ’’وہ کھانا کھلاتے ہیں کھانا کھلانے کی محبت کی وجہ سے۔‘‘ اور وہ اس کام کو خود اس کام کے شوق کی وجہ سے کرتے ہیں۔یہ تین اعلیٰ درجہ کے اخلاقی مدارج ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائے ہیں اور جس پر موجودہ زمانہ میں یوروپین فلاسفروں نے بڑی بڑی بحثیں کی ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ نیکی کیا ہے اور ہمیں کیوں کرنی چاہیے اس کا جواب بعض فلسفیوں نے یہ دیا ہے کہ نیکی وہ ہے جو محض نیکی کے لئے کی جائے۔اس کے کرتے وقت کوئی خاص غرض مدّ ِنظر نہ ہو (Encyclopedia of Religion and Ethics Under word "Virtue")۔بعض اور فلسفیوں نے کہا ہے کہ نیکی وہ ہے جو کسی Great Ideal یعنی اعلیٰ درجہ کے مقصد کو مدّ ِنظر رکھ کر کی جائے اور بعضوں نے کہا ہے کہ نیکی یہ ہے کہ خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کی خاطر کام کیا جائے۔(The New International Webster,s Coprehensive Dictionary of the English Language Under word "Virtue") یہ تینوں فلسفیانہ نکتے يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ میںبیان کئے گئے ہیں۔اس معیار کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ نیکی ایسے وقت میں کرنی چاہیے کہ خود تکلیف میں ہو لیکن دوسروں کے لئے ایثار کرے۔اسی طرح اس معیار کو بھی تسلیم کیاگیا ہے کہ نیکی محض نیکی کی خاطر کی جائے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ ہمارے مومن بندے محض ایک نیک کام کو اس کی ذاتی محبت کی وجہ سے کرتے ہیں اور پھر اس معیار کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ نیک کام وہ ہے جو ایک ہائر آئیڈیل کے لئے کیا جائے۔چنانچہ فرماتا ہے يُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ وہ دوسروں کو محض خدا کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لئے کھانا کھلاتے ہیں۔ان کے مدّ ِنظر کوئی دنیوی غرض نہیں ہوتی بلکہ ایک بلند و بالا مقصد ان کے سامنے ہوتا ہے جو یہ ہے کہ انہیں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے۔ان تین اخلاقی نکتوں پر موجودہ زمانہ کے فلسفیوں نے بڑی بڑی بحثیں کی ہیں اور کسی نے کسی کو اعلیٰ قرار دیا ہے اور کسی نے کسی کو۔مگر قرآن کریم نے صرف ایک مختصر سی ضمیر رکھ کر ایسی تعلیم پیش کر دی ہے جو ان تمام فلسفوں پر حاوی ہے۔اگر کوئی فلاسفر ہمارے پاس