تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 406

کہ یہ کتاب اسی صورت میں حفظ ہو سکتی تھی جب مختصر الفاظ میں ہوتی۔غرض ایک طرف اس کو یاد کرنے کی اہمیت مجبور کرتی تھی کہ یہ کتاب مختصر ہو مگر دوسری طرف قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ وہ تَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ ہے تقاضا کرتا تھا کہ سارے مضامین اس میں آجائیں۔قرآن کریم کی ایک آیت کے متعدد معنی ہونے کی دلیل اب یہ دونوں باتیں کس طرح اکٹھی ہوسکتی تھیں؟ یہ اسی طرح اکٹھی ہو سکتی تھیں کہ ایک ایک جملہ میں کئی کئی مضامین ہوں۔اگر ہم اس حکمت کا انکار کر دیں تو قرآن کریم میں تمام مضامین کس طرح آسکتے ہیں۔پس قرآن کریم کے یہ دو دعوے یعنی ایک یہ کہ اس کی حفاظت کی جائے گی زبانی بھی اور تحریری بھی۔اور دوسرا یہ کہ تمام مضامین اس میں آگئے ہیں لازماً اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ قرآن کریم کی ایک ایک آیت کے کئی کئی معانی ہیں۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک ایک آیت کے سات بطن ہیں(بخاری کتاب فضائل القراٰن باب انزل القرآن علٰی سبعۃ احرف)۔اگر ایک ایک بطن کے سات معنے بھی ہوں تو ایک ایک آیت کے ۴۹ معنے تو یہی ہو گئے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تشریح کر کے بتا دیا ہے کہ قرآن کریم کی ایک ایک آیت بڑے وسیع مطالب پر حاوی ہے۔بہرحال جب قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا کہ اس میں تمام مضامین ہیں اور جب قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کو حفظ کیا جائے گا اور اس طرح اس کی ظاہری حفاظت کی جائے گی تو ان دونوں باتوں کو ملا کر خود بخود یہ نتیجہ نکل آیا کہ قرآن کریم ایسی عبارت میں نازل کیا جائے گا جو مختصر بھی ہو اور وسیع مطالب پر بھی مشتمل ہو۔اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے طریقِ کلام کو اختیار کرتا۔ورنہ اس کتاب کی وسعت ہزاروں جلدوں میں بھی نہ آسکتی۔پس قرآن کریم ایسی عبارت میں نازل کیا گیا ہے کہ ایک ایک جملہ اور فقرہ کے کئی کئی معنے نکلتے ہیں اور اگر کوئی معنے مراد نہیں ہوتے تو اسی جگہ یا دوسری جگہ ان معنوں کی تردید کر دی جاتی ہے۔اس طرح مختصر لفظوں میں بے انتہا مطالب آگئے ہیں۔اور آیاتِ زیر تفسیر میں بھی اسی کمال کا ایک نقشہ کھینچا گیا ہے کہ مختلف مضامین ایک خاص اسلوبِ بیان سے پیدا کئے گئے ہیں اور سب ہی درست ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر فائدہ دیتے ہیں اورتبلیغ حقہ میں مفید ہیں۔پس کئی معنوں سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ابہام ہو گیا بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ کمال ہو گیا۔فقرہ چھوٹا سا ہے اور اس کے معنے بہت وسیع ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں ایک چھوٹی سی آیت آتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّ اَسِيْرًا(الدھر :۹) اس آیت میں صرف ایک ضمیر کے ذریعہ سے مضمون کو اتنا وسیع کر دیا گیا ہے کہ اس پر کتاب لکھی جا سکتی ہے۔یہ ایک فلسفیانہ مضمون ہے جو ان آیات میں بیان ہو اہے۔اور اگر اس فلسفہ پر بحث کی