تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 405
خدا تعالیٰ نے ان معنوں کو ردّ نہ کیا ہو تو تفسیر کا یہ اصول ہے کہ پھر وہ سارے معنے مراد لئے جائیں گے۔اس لئے کہ اس کلام کا کہنے والا عالم الغیب خدا ہے۔اگر وہ معنے اس کے مدّ ِنظر نہ ہوتے تو وہ ان کی تردید کیوں نہ کرتا۔چنانچہ قرآن کریم میں جب بھی ایک ایسا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس سے کوئی شبہ پیدا ہوتاہے وہیں اس شبہ کا ازالہ بھی کر دیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ میری مراد ان معنوں سے یہ نہیں بلکہ یہاں اس کے اور معنے ہیں۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ (یوسف:۱۱۲) یعنی یہ قرآن کریم جو ہم نے نازل کیا ہے اس میں کوئی جھوٹی باتیں نہیں بلکہ یہ کلام پہلی تمام پیشگوئیوں کو پور اکرنے والا ہے اور ہر قسم کے مضامین اس میں تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں لیکن قرآن کریم ہے کتنی کتاب؟ انجیل سے بھی چھوٹی ہے پس جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ دعویٰ پیش کیا گیا ہے کہ اس کتاب میں وہ ہر قسم کے مضامین بیان کر دیئے گئے ہیں جو دینیات سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ لازمی بات ہے کہ اتنی چھوٹی سی کتاب میں وہ تمام مضامین تفصیل کے ساتھ نہیں آسکتے تھے۔پھر تو قرآن کریم کی ہزاورں ہزار جلدیں چاہیے تھیں۔اور اگر ہزاروں ہزار جلدیں ہوتیں تو لوگ اس کو حفظ نہ کر سکتے اور اس طرح قرآن کریم کی حفاظت مشتبہ ہو جاتی۔اب اگر لوگ قرآن کریم کو آسانی سے حفظ کر لیتے ہیں تو اس لئے کہ قرآن کریم حجم کے لحاظ سے ایک چھوٹی سی کتاب ہے۔اگر اغانی کی طرح بیس۲۰ جلدوں میں قرآن کریم ہوتا یا لسان العرب کی طرح اس کی بیس۲۰ جلدیں ہوتیں تو کتنے لوگ اس کو حفظ کرنے والے ہوتے؟ یہ لازمی بات تھی کہ بہت تھوڑی تعداد میں ایسے لوگ نکلتے جو اتنی بڑی کتاب کو حفظ کرنے کی کوشش کرتے۔پھر اس کی لمبائی خود اس کتاب کو مشتبہ کر دیتی اور لوگ کہتے کہ چونکہ اتنی بڑی کتاب حافظ حفظ نہیں کر سکتے اس لئے ضرور اس میں کچھ نہ کچھ غلطیاں ہو گئی ہوں گی۔مگر اب ہزاروں ہزار نہیں لاکھوں حافظ دنیا میں موجود ہیں اور بڑے بڑے شدید دشمن یہاں تک کہ میور، نولڈکے اور سپرنگر جیسے شخص بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم قرآن کریم کے متعلق خواہ کچھ بھی کہیں اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس صورت میں یہ کتاب اپنے صحابہؓ کو دی تھی اسی صورت میں وہ آج بھی محفوظ ہے۔وہ اس امر کے تو قائل نہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ کتاب نازل کی ہے مگر وہ یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہتے کہ جس صورت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کتاب اپنے متبعین کو دی تھی اسی صورت میں یہ کتاب آج بھی موجود ہےاور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔چنانچہ بعض نے کھلے طو رپر کہا ہے کہ ہم انجیل یا بائبل کی طرح اس پر اعتراض نہیں کر سکتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کتابوں کو کوئی حفظ نہیں کرتا مگر قرآن کریم کو حفظ کرنے والے لاکھوں لوگ موجود ہیں مگر یہ بھی لازمی بات ہے