تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 404
میرے وفادار ہیں۔جب بادشاہ کی تعریفیں شروع ہوئیں تو بعضوں نے کہا کہ حضور کا کیا ہے حضور تو نجیب الطرفین ہیں ہم تو حضور کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے۔اس طرح وہ تعریفیں کر کے لونڈی زادہ ہونے کا الزام دور کر رہے تھے کہ انشاء اللہ خاں بھی بول اٹھے ان کی عادت تھی کہ جو بھی کوئی بات کر رہا ہوتا اس سے بڑھ کر بات کرتے۔چونکہ بادشاہ کے بہت منہ چڑھے ہوئے تھے اس لئے وہ ہمیشہ دربار میں دوسروں سے بڑھ کر بات کرنے کے عادی تھے تاکہ بادشاہ یہ سمجھے کہ یہی میرے سب سے بڑے خیرخواہ ہیں۔جب لوگوں نے تعریف کی اور کہا کہ حضور تو نجیب الطرفین ہیں تو انشاء اللہ خاں کو بھی جوش آیا اورانہوں نے کہا نجیب الطرفین کیا حضور تو اَنْـجَبْ ہیں۔عربی زبان میں جب اَفْعَل کے وزن پر لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس کے معنے ہوتے ہیں دوسروں سے زیادہ اس میں یہ خوبی ہے مثلاً جب اَمْـجَد کہا جائے تو اس کے معنے ہوں گے زیادہ مجد والا۔جب اَکْرَم کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنے ہوں گے زیادہ کرم والا۔چونکہ درباری بادشاہ کو نجیب الطرفین قرار دے رہے تھے انہوں نے کہا نجیب الطرفین کیا حضور تو اَنْـجَب ہیں یعنی سب سے زیادہ شریف ہیں۔مگر بدقسمتی سے عربی زبان میں اَنْـجَب کے معنے لونڈی زادہ کے بھی ہیں۔وہ کہہ تو بیٹھے مگر اس وقت ان کے ذہن میں یہ نہیں آیا کہ اس لفظ کے اور معنے بھی پائے جاتے ہیں اور وہ معنے ایسے ہیں جن سے بادشاہ پر زد پڑتی ہے۔پھر بعض دفعہ ایک بات تو منہ سے نکلتی ہے مگر اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا مگر خدا کی قدرت ہے اس وقت کئی علماء بادشاہ کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اورخود بادشاہ بھی عربی جانتا تھا۔انہوں نے اَنْـجَب کہا تو یک دم تمام درباریوں اور بادشاہ کا ذہن اَنْـجَب کے انہی معنوں کی طرف چلا گیا اور تمام دربار پر سناٹا چھا گیا۔اس کے بعد انہوں نے اور کئی قسم کی باتیں کر کے اس اثر کو زائل کرنا چاہا مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوئے نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ کو ان سے اتنی عداوت ہو گئی کہ اس نے انہیں ذلیل کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ یا تو وہ بادشاہ کے اتنے منہ چڑھے تھے کہ ہر وقت دربار میں رہتے اور یا گرتے گرتے بہت ہی ادنیٰ حالت کو پہنچ گئے۔تو انسان غلطی کر سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایک ایسا لفظ استعمال کرے جس کے معنے وہ نہ جانتا ہو۔مگر کیا خدا تعالیٰ بھی ایسا کر سکتا ہے۔کیا خدا تعالیٰ کو یہ معلوم نہیں کہ میں جو الفاظ استعمال کر رہا ہوں ان سے کیا کیا معنے نکل سکتے ہیں۔جب خدا علیم و خبیر ہے اور وہ جانتا ہے کہ ایک لفظ کے دو معنے بھی ہو سکتے ہیں، تین معنے بھی ہو سکتے ہیں، چار معنے بھی ہو سکتے ہیں۔تو اگر خدا تعالیٰ ان سب میں سے کوئی ایک معنے لینا چاہتا تھا تو خدا تعالیٰ کی شان اور اس کی عظمت کے شایاں یہ امر تھا کہ وہ کوئی ایسا اشارہ کر دیتا جس سے پتہ لگ جاتا کہ یہاں صرف دوسرے معنے مراد ہیں۔تیسرے معنے مراد نہیں یا چوتھے اور پانچویں معنے مراد نہیں۔لیکن اگر کلام ایسا ہو کہ اس کے زیادہ معنے ہو سکتے ہوں اور