تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 403
جاتا ہے۔دیکھو میاں میں تمہیں کہتا ہوں۔دیکھو میاں میں تمہیں کہتا ہوں۔گو یا لفظاً یا معناً بعض دفعہ ایک بات کو زور دینے کے لئےدہرایا جاتا ہے پس اٖلٰفِهِمْ پہلے اِیْلٰف کا بدل ہے اور معنے یہ ہیں کہ ہم نے قریش کے اِیْلٰف کےلئے ایساکیا ہاں ہاں ہم نے قریش کے اِیْلٰف کے لئے ایسا کیا اردو میں ایسے موقعہ پر بعض دفعہ ہاں ہاں کا لفظ بڑھا دیا جاتا ہے یعنی اس میں کوئی شبہ نہیں یقینی اور قطعی بات ہے۔یہ زور جو یہاں کلام پر دیا گیا ہے اس کے متعلق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ زور رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ پر ہو یعنی ہم نے قریش کے دل میں اِیْلٰف پیدا کیا پھر ہم کہتے ہیں کہ ہم نے اِیْلٰف پیدا کیا رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ کے متعلق۔گویا یہ زور رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ پر ہو لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اِیْلٰف پر زور دیا گیا ہو اور خود اسی مضمون کے لئے یہ لفظ دوبارہ لایا گیا ہو یعنی ہم نے اِیْلٰف کے لئے رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ کا انتظام کیا۔اس جگہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس قسم کا معنوں کا اختلاف مضمون کو مبہم نہیں کر دیتا۔ہو سکتا ہے کہ کوئی کہے کہ اس آیت کے تو پانچ چھ معنے ہوگئے ہیں اور مضمون مبہم ہو گیا ہے۔مگر یہ غلط ہے اس قسم کا اختلاف مضمون کو مبہم نہیں کرتا بلکہ کلام الٰہی میں ایسا اختلاف مضامین کو وسیع کر دیتاہے اور وہ سب معنے ہی ایک وقت میں مدنظر ہوتے ہیں کیونکہ ہم قرآن کریم کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ خدائے علیم و خبیر کا کلام ہے۔اگر ایک لفظ کے استعمال سے تین یا چار معنے نکل سکتے تھے اور ان میں سے دو یا تین معنے الٰہی منشاء میں نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ معنے لئے جائیں تو اللہ تعالیٰ کے لئے اس کی وضاحت میں کون سی مشکل تھی وہ باقی معنوں کی نفی کر دیتا اور بتا دیتا کہ یہاں صرف فلاں معنے مراد ہیں۔آخر جب خدا نے ایک ایسا جملہ یا لفظ استعمال کیا تھا جس کے کئی معنے ہو سکتے تھے اور خدا تعالیٰ کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ علیم و خبیر ہے وہ جانتا تھا کہ اس کے ایک ایک لفظ سے کیا کیا معنے نکلیں گے تو وہ ان معنوں کی تردید کر دیتا اور کہتا کہ میرا مطلب صرف فلاں معنے سے ہے باقی معنے یہاں مراد نہ لئے جائیں۔اگر انسان کا کلام ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ انسان غلطی کر سکتا ہے وہ ایک لفظ استعمال کرتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ اس کے معنے کیا ہیں یا بعض دفعہ معنے تو جانتا ہے مگر اس لفظ کے استعمال کرتے وقت وہ معنے اس کے ذہن میں نہیں ہوتے اور اس طرح غلطی کر جاتا ہے ہمارے ملک کا مشہور لطیفہ ہے کہ نواب سعادت علی خاں کی مجلس میں ایک دفعہ سید انشاء اللہ خاں بیٹھے ہوئے تھے۔نواب سعادت علی خاں لونڈی زادہ تھے اور اکثر لوگ اس کا علم رکھتے تھے۔ایک دن وہ دربار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگوں نے ان کی تعریفیں شروع کر دیں۔قاعدہ یہ ہے کہ بادشاہ پر جس قسم کا اعتراض ہو سکتا ہو۔عموماً لوگ اس کے خلاف باتیں کرتے ہیں تاکہ اس کا دل خوش ہو اور وہ سمجھے کہ یہ لوگ