تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 402
کے ساتھ قائم ہیں کہ ان کے بارہ میں کسی کو شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔اگر یہ تحریر کسی شبہ کا موجب ہو سکتی تھی اور اگر کوئی شخص بھی خیال کرتا کہ اس تحریر میں غلطی رہ گئی ہے تو جو لوگ اس عقیدہ کے قائل تھے کہ پہلا اِیْلَاف دراصل اِلَاف ہے وہ جس طرح اس کو اِلَاف پڑھتے ہیں اسی طرح تحریر میں بھی اس کو اِلَاف کر دیتے مگر وہ پڑھتے تو اِلَاف ہیں لیکن لکھتے اِیْلَاف ہیں۔جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ بھی اس امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو نسخہ پہنچا ہے اس میں اِیْلٰف ہی لکھا ہوا ہے ورنہ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ان کا خیال تو یہ ہے کہ یہ لفظ اِیْلٰف نہیں بلکہ اِلَاف ہے لیکن لکھتے اِیْلٰف ہیں اور پڑھتے اِلَاف ہیں۔ان کا اِلَاف پڑھنا اور اِیْلَاف لکھنا ثبوت ہے اس بات کا کہ باوجود اس کے کہ ان کے اپنے دل میں یہ یقین تھا کہ یہاں قرأت اِلَاف ہے چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو نسخۂ قرآن پہنچا اس میں اِیْلَاف ہی لکھا ہوا تھا اس لئے ان میں یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ اسے بدل سکیں۔اس سے بڑا ثبوت قرآن کریم کی حفاظت کا اور کیا ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کا اپنا خیال یہ ہے کہ اِلَاف ہے اِیْلَاف نہیں وہ بھی پڑھتے تو اِلَاف ہیں لیکن لکھتے اِیْلَاف ہیں اور وہ یہ جرأت نہیں کر سکتے کہ اس کو بدل دیں۔دوسرا اِیْلٰف جو ہے یہ قرآن کریم کے ان نسخوں میں جو ہمارے ملک میں چھپتے ہیں یا کی بجائے کھڑی زیر کے ساتھ لکھا ہوا ہوتا ہے مگر اس سے یہ لفظ اِلَاف نہیں بن جاتا بلکہ اِیْلٰف ہی رہتا ہے۔دراصل لکھنے کے دونوں طریق مروّج ہیں یا کے ساتھ بھی اس لفظ کو لکھ لیتے ہیں اور کھڑی زیر کے ساتھ بھی لکھ لیتے ہیں۔مگر مفسرین کے نزدیک قُرّاء اسے پڑھتے تو اِیْلٰف ہیں مگر لکھتے اِلَاف ہیں۔انہیں یہ جرأت نہیں ہوتی کہ وہ تحریر میں تبدیلی کر کے اسے یا کے ساتھ لکھنا شروع کردیں۔ورنہ جب ان کا خیال یہ تھا کہ یہاں یاء ہے تو وہ تحریر میں بھی اس کو یا کے ساتھ بدل سکتے تھے لیکن قرأت کے اختلاف کے باوجود وہ لکھتے تو اٖلَاف ہیں مگر پڑھتے اِیْلٰف ہیں۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ ہر شخص خواہ وہ موافق تھا یا مخالف یہ یقین رکھتا تھا کہ اسے قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پہنچا ہے اس میں تبدیلی کرنے کی اسے جرأت نہیں ہوتی تھی۔یہ قرآن کریم کے محفوظ اور غیرمحرف ہونے کی ایک نہایت ہی عمدہ اور لطیف دلیل ہے۔اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ۔اٖلٰفِهِمْ کو دوبارہ زور دینے کے لئے دہرایا گیا ہے اور یہ پہلے اِیْلٰف کا بدل ہے۔بدل سے مراد یہ ہے کہ وہی لفظ اپنی اصلی شکل میں یا اپنے کسی ہم معنیٰ لفظ کی شکل میں کلام پر زور دینے کے لئے دوبارہ لایا جاتا ہے۔ہمارے ہاں اردو میں بھی اس قسم کے فقرات استعمال ہوتے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ اردو میں اسے بدل کہتے ہیں یا کچھ اور۔بہرحال جب کلام پر زور دینا مطلوب ہوتو اردو میں بھی بات کو دہرایا جاتا ہے مثلاً کہا