تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 401

کہ ہم نے اصحابِ فیل کو تباہ کیا تاکہ ہم قریش کو شتاء و صیف کے سفروں سے وابستہ کر دیں وہ ان کو چھوڑیں نہیں۔اگر ہم اصحاب فیل کو تباہ نہ کرتے تو یہ اس امر پر مجبور ہو جاتے کہ سفروں کو چھوڑ دیں لیکن ہمارا منشا یہ تھا کہ سفروںپر قائم رہیں اور چونکہ ہمارا منشا یہ تھا کہ یہ سفروں پر قائم رہیں اس لئے ہم نے اصحاب فیل کو تباہ کر کے ایسے سامان کر دیئے کہ انہیں سفر چھوڑنے کے لئے کوئی مجبوری پیش نہ آئی۔چوتھے معنے یہ ہیں کہ قریش کو سردی گرمی کا سفر کرنے کی محبت پیدا کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے یعنی فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ کا صلہ بنا کر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے ان پر ایک بہت بڑا انعام کیا ہے اور وہ یہ کہ ان کے دلوں میں اس نے سردی گرمی اور شتاء و صیف کے سفر کی محبت پیدا کر دی ہے پس یہ جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل کیا ہے کہ اس نے شتاء و صیف کے سفر کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کر دی ہے اور پھر اس کے لئے اس نے سامان بھی مہیا کر دیئے ہیں یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے، چاہیے کہ وہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس کی عبادت کریں۔پانچویں معنے یہ ہیں کہ قریش کے اپنے نفسوں پر سردی گرمی کا سفر واجب کر دینے پر تعجب کر۔یعنی یہ کیوں گھروں میں بیٹھ کر عبادت نہیں کرتے اور سفر کرتے ہیں۔اس کے متعلق بھی آگے جہاں مضمون کی تفصیل آئے گی میں روشنی ڈالوں گا اس جگہ میں صرف یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ مجھے ان معنوں پر اس کی موجودہ شکل میں اعتراض ہے۔اس جگہ پر بعض مفسرین نے ایک نکتہ بیان کیا ہے اور وہ نکتہ اِیْلَاف کے متعلق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ اٖلٰفِهِمْ میں دو اِیْلَاف آتے ہیں۔ایک اِیْلَاف لفظ قریش سے پہلے آتا ہے اور ایک اِیْلَاف لفظ قریش کے بعد آتا ہے۔وہ کہتے ہیں پہلے اِیْلَاف کے بارہ میں قُرّاء میں اختلاف پایا جاتا ہے۔کہ اسے اِلَاف پڑھنا چاہیے یا اِیْلَاف۔بعض کہتے ہیں کہ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ اٖلٰفِهِمْ نہیں بلکہ لِاِلَافِ قُرَيْشٍ اٖلٰفِهِمْ پڑھنا چاہیے اور بعض اِلَافِ قُرَیْش نہیں بلکہ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ پڑھتے ہیں لیکن قرآن مجید کی تحریر میں سب متفق ہیں کہ اس کو اِیْلٰف ہی لکھنا چاہیے اِلَاف نہیں لکھنا چاہیے۔گویا پڑھتے تو بعض اس کو اِلَاف ہیں لیکن لکھتے وقت وہ اسے اِلَاف نہیں بلکہ اِیْلَاف لکھتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں اٖلَافِھِمْ کے متعلق لکھنے میں تو سب اس بات پر متفق ہیں کہ اسے اِیْلَاف لکھا جائے گا لیکن پڑھنے میں سب اسے اِلَافِھِمْپڑھیں گے۔انہوں نے اس سے ایک استدلال کیا ہے جو نہایت ہی لطیف استدلال ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم کی حفاظت کا یہ ایک زبردست ثبوت ہے کہ قرآن کریم کی تحریر بھی اور روایت بھی ایسی پختگی