تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 389

کے ساتھ جملہ شروع ہوتا ہے یا اسم کے ساتھ۔اسم کے ساتھ اگر جملہ شروع ہو گا تو وہ مبتداء اور خبر سے مرکب ہو گا اور اگر فعل کے ساتھ جملہ شروع ہو گا تو وہ فعل اور فاعل سے مرکب ہو گا حرف کے ساتھ کوئی جملہ شروع نہیں ہوتا۔مثلاً یہاں لام حرف ہے اور اِیْلٰــــفٌ مصدر ہے اس کو دیکھ کر ہر شخص جو معمولی عربی بھی جاننے والا ہو فورًا سمجھ جائے گا کہ اس فقرہ سے پہلے ضرور کچھ نہ کچھ محذوف ہے کیونکہ نہ تو یہ جملہ فعل کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور نہ اسم کے ساتھ نہ یہ مبتداء اور خبر ہے نہ فعل اور فاعل ہے۔اس لئے لام کا متعلق بہرحال یہاں محذوف ہے۔حروف کے متعلق عربی زبان میں یہ طریق رائج ہے کہ اگر کسی فقرہ کے شروع میں وہ آجائیں تو ان کا متعلق محذوف ہوتا ہے مثلاً بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کو ہی لے لو۔یہ باء سے شروع ہوتی ہے جو ایک حرف ہے اس لئے اس سے پہلے ضرور کچھ نہ کچھ محذوف ہے جو باء کا متعلق کہلاتا ہے اور وہ محذوف یہ ہے کہ اَقْرَأُ یا اَشْـرَعُ یعنی میں اللہ کا نام لے کر پڑھتا ہوں یا اللہ کا نام لے کر شروع کرتا ہوں یا اِقْرَأْ یا اِشْـرَعْ (روح المعانی سور ۃ الفاتحۃ)۔اسی طرح لِاِیْلٰف میں بھی لام کا متعلق محذوف ہے۔اگر کوئی کہے کہ آپ کو کس طرح پتہ لگ گیا کہ اس سے پہلے ضرور کچھ محذوف ہے کیوں نہ سمجھا جائے کہ یہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں ڈھکوسلے کا کوئی سوال نہیں عربی لغت نے ایک قاعدہ بنایا ہوا ہے اس کے ماتحت ہم خود بخود سمجھ جاتے ہیں کہ فلاں کا متعلق محذوف ہے یا نہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی ڈاک خانہ میں تار دینے جائےاور ٹِک ٹِک کی آواز سنے تو پوچھے کہ آپ لوگوں کو کس طرح پتہ لگ جاتا ہے کہ اس ٹِک ٹِک سے مراد کیا ہے تو اس کا جواب یہی ہو گا کہ گورنمنٹ نے پہلے سے ایک کوڈ بنایا ہوا ہے اس کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے جب ٹِک کی آواز آتی ہے تو ہم فورًا سمجھ جاتے ہیں کہ اس سے A مراد ہے یا Bمراد ہے یا C مراد ہے۔اسی طرح عربی زبان میں تمام قواعد مدوّن ہیں ان کے مطابق جب کسی فقرہ سے پہلے حرف آئے گا مثلاً باء آئے گی یا لام آئے گا تو ہم ان قواعد کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے فوراً سمجھ جائیں گے کہ ان کا متعلق محذوف ہے۔بےشک بعض دفعہ دو دو چار چار متعلق بھی نکل آئیں گے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی حرف تو شروع میں آئے مگر اس کا متعلق محذوف نہ ہو۔یہاں بھی لِاِیْلٰف کے لام نے بتا دیا ہے کہ اس کا متعلق محذوف ہے۔اب رہا یہ سوال کہ کیا محذوف ہے؟ اس بارہ میں بہت کچھ اختلاف ہے مگر اس اختلاف کے معنے صرف اتنے ہیں کہ کسی کا رجحان کسی معنے کی طرف چلا گیا ہے اور کسی کا رجحان کسی طرف۔اور چونکہ وہ معنے سب کے سب اس مقام پر چسپاں ہو جاتے ہیں اس لئے ہمارے نزدیک جھگڑے یا اختلاف کا کوئی سوال ہی نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ سارے کے سارے درست ہیں۔کئی متعلق ہونے کے یہ معنے نہیں کہ ہم ان میں سے کسی ایک کو ہی درست قرار دیں اور باقی متعلقات