تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 390
کو رد کر دیں۔بلکہ اگر سارے کے سارے متعلق معنوں کے لحاظ سے چسپاں ہو جاتے ہیں تو ہم ان سب کو تسلیم کر لیں گے صرف یہ کہیں گے کہ کسی نحوی عالم کا ذہن ایک طرف چلا گیا ہے اور کسی نحوی عالم کا ذہن دوسری طرف چلا گیا ہے۔اس لحاظ سے خواہ دو متعلق ہوں یا تین ہوں یا چار ہوں اگر وہ سب کے سب اپنے معانی کے لحاظ سے آیت پر چسپاں ہو جاتے ہوں تو وہ سب کے سب درست ہوں گے۔اس آیت کے محذوف کے متعلق ایک قول بصری نحویوں کا ہے اور ایک کوفی نحویوں کا۔گذشتہ زمانہ میں عرب میں دو بڑے مشہور نحوی سکول تھے ایک بصری اور دوسرا کوفی۔یعنی ان دونوں شہروں کے نحوی بعض الگ الگ اصول کے معتقد تھے (اسے بھی انگریزی زبان میں سکول کہتے ہیں اس سے مدرسہ مراد نہیں) اور ان اصولی مسائل کی وجہ سے ان کے مسائل کے استخراج میں فرق ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے بعض بعض مسائل نحویہ میں وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے۔ہندوستان میں باوجود اس کے کہ مذہباً اس کے افراد زیادہ تر کوفی ہیں یعنی امام ابوحنیفہ صاحبؒ کوفی کے متبع،نحو میں زیادہ تر بصری علماء کی طرف رجوع کیا جاتا ہے لیکن مصر اور شام کے لوگ کوفی نحویوں کے قول کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں حالانکہ وہ مذہباً شافعی ہیں۔یوں اختلاف تو ہر جگہ ہے ہندوستان میں بھی اور باہر بھی۔کوئی کسی نحوی کے قول کو ترجیح دیتا ہے اور کوئی کسی کے قول کو۔اس تمہید کے بعد میں بتانا چاہتا ہوں کہ بصری نحویوں کا قول اس بارہ میں یہ ہے کہ یہاں لام کا متعلق پہلی سورۃ کی آخری آیت ہے یعنی فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔ہم نے ان کو دانہ کھائے ہوئے سِٹے کی طرح کر دیا قریش کے اِیْلَاف کے لئے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ ہی لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍکا متعلق ہے تو خانۂ کعبہ کی حفاظت خانۂ کعبہ کی وجہ سے تھی یا ایلاف قریش کی وجہ سے؟ اگر قریش کا ایلاف مدّ ِنظر نہ ہوتا تو کیا اصحابِ فیل کو تباہ نہ کیا جاتا اگر کیا جاتاتو یہ مزید احسان قریش پر کیسا؟ گویا یہ متعلق تسلیم کرنے کی وجہ سے یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ پہلی سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ خانۂ کعبہ کے احترام کے نتیجہ میں ہم نے ایسا کیا مگر یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ قریش کے اندر مودّت اور انس پیدا کرنے کے لئے ہم نے ایسا کیا۔بظاہر یہ اختلاف معلوم ہوتا ہے بلکہ جو معنے میں نے بیان کئے تھے ان کے لحاظ سے تو یہ اعتراض اور بھی پختہ ہو جاتا ہے۔کیونکہ میں نے صرف یہی نہیں بیان کیا تھا کہ خانۂ کعبہ کے احترام کی وجہ سے اصحابِ فیل کو تباہ کیا گیا بلکہ میں نے یہ بیان کیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کی وجہ سے بھی اصحابِ فیل کو تباہ کیا گیا۔گویا پہلے تو اصحابِ فیل کی تباہی کی صرف دو اغراض بتائی گئی تھیں۔(۱) خانۂ کعبہ کا