تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 359

یہی ہے کہ مسیحؑ نبی تھا اس سے بلند کوئی اور مقام میں مسیحؑ کو ہرگز نہیں دے سکتا۔جب اس نے یہ بات کہی تو درباری ڈر کر خاموش ہو گئے اور بادشاہ نے مسلمانوں کو اجازت دے دی کہ وہ آزادی کے ساتھ اس کے ملک میں رہیں۔دیکھو یہ کتنی عجیب بات ہے ابرہہ کا لشکر خانۂ کعبہ کو گرانے جاتا ہے بلکہ خانۂ کعبہ کو نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرانے جاتا ہے کیونکہ اس کا عقیدہ یہی تھا کہ جو موعود آئے گا عیسائیوں میں سے آئے گا کسی اور قوم میں سے نہیں۔اس نے چاہا کہ عرب جو ایک نبی کا انتظار کر رہے ہیں اور جن کے اتحاد کا نقطۂ مرکزی خانۂ کعبہ ہے ان کو عیسائیت کے مقابلہ میں مغلوب رکھنے کے لئے خانۂ کعبہ کو گرادے اور ان کے شیرازہ کو بکھیر دے تاکہ نبیٔ عربی کے خیال کے ماتحت وہ ایک مرکز پر جمع نہ ہو سکیں۔مگر وہی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرانے کے لئے کھڑا ہوا تھا اسی کے ہاں مسلمانوں نے پناہ لی۔(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ذکر الـھجرۃ الاولٰی الی ارض الحبشۃ) یہ مت خیال کرو کہ مسلمانوں کی اصل جگہ تو مکہ تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاص صحابہ تو مکہ ہی میں رہے تھے پھر نجاشی نے انہیں کس طرح پناہ دی اور کس طرح اس قوم کے پروں کے نیچے انہوں نے ترقی کی۔حقیقت یہ ہے کہ اس ہجرت کی وجہ سے مکہ کے مسلمان بھی کفار کے ظلم و ستم سے بچ گئے تھے۔چنانچہ جتنا قتل و غارت اور خون خرابہ ہجرت حبشہ سے پہلے ثابت ہے اتنا خون خرابہ ہجرتِ حبشہ کے بعد ثابت نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ اگر مسلمانوں کو مارنا چاہتے تھے تو اس لئے تو نہیں کہ زید یا بکر سے انہیں کوئی دشمنی تھی وہ اس لئے مارنا چاہتے تھے کہ اسلام کا وجود ہی مٹ جائے۔مگر اب مسلمانوں کا اسی۸۰ فی صدی حصہ حبشہ میں جا چکا تھا اور صرف بیس۲۰ فی صدی حصہ مکہ میں رہ گیا تھا۔وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے بیس۲۰ فی صدی مسلمانوں کو مار بھی دیا تو کچھ نہیں بنے گا کیونکہ حبشہ میں اسلام کا درخت اپنی جڑیں پکڑ چکا ہے۔پس مسلمانوں کے حبشہ جانے کی وجہ سے اس مار پیٹ کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا جو مکہ میں جاری تھی۔بعد میں بے شک انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وادی میں قید بھی رکھا اور انہوں نے آپ کو بھوکا اور پیاسا بھی رکھا۔اسی طرح مسلمانوں کو انہوں نے اور کئی رنگوں میں دکھ دیئے مگر بہرحال ان کا پہلا رنگ بدل گیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب ان کو مارنے پیٹنے کا اتنا فائدہ نہیں۔پس ہجرت کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو ترقی مل گئی اور ملی بھی اسی قوم کے زیر سایہ جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے گھر میں پالا گویا وہی جو آپ کی تباہی کی کوشش کر رہا تھا اسی کے گھر میں آپ پل رہے تھے۔اسی قسم کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بعض اور بھی واقعات ہیں مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن میں