تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 360

ثقیف قوم میں پرورش پائی حالانکہ یہ ثقیف قوم وہی تھی جس نے ابرہہ کو راہنما دیئے تھے تاکہ وہ جائے اور خانہ کعبہ کو گرائے۔گویا وہی قوم جو خانۂ کعبہ کو گرانے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتی ہے اسی کے گھر میں خانۂ کعبہ کا مقصود پرورش پاتا اور اپنی زندگی کے کئی سال بسر کرتا ہے اس زمانہ میں بھی دیکھ لو مہدویت کے مدعیوں سے جہاں بھی مقابلہ کیا ہے انگریزوں نے کیا ہے(اردو انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ مہدی) مگر پھر انگریزوں کے سایہ تلے ہی مسیح موعودؑ نے ترقی کی ہے۔لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں لکھاہے کہ میں انگریزوں کے سایہ تلے پلا ہوں۔ان نادانوں سے کوئی پوچھے کیا خدا نے یہ نہیں کیا کہ موسٰی فرعون کےسایہ تلے پلے؟ کیا خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو نجاشی کے سایہ تلے نہیں پالا؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے انبیاء کو دشمنوں کے سایہ تلے ترقی دیتا ہے جو ان کی صداقت کا ایک ثبوت اور ان کی جماعتوں کے لئے ایک قابلِ فخر بات ہوتی ہے۔جب مرزا صاحب نے یہ لکھا کہ میں انگریزوں کے سایہ تلے پلا ہوں تو درحقیقت ان الفاظ کے ذریعہ آپ نے اپنے دشمن کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب نشان دیکھو کہ جو مہدی کا سب سے بڑا دشمن تھا اسی کے سایہ کے نیچے خدا نے مجھے ترقی دی۔غرض اللہ تعالیٰ کی یہ ایک عظیم الشان سنت چلی آتی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ظاہر ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ظاہر ہوئی کہ وہ اپنی جماعتوں کو اپنے دشمنوں کے سایہ تلے ترقی دیتا ہے۔حضرت مسیحؑ ناصری کے زمانہ میں بھی یہی بات ہوئی۔یہودی آپ کے متعلق بار بار کہتے تھے کہ یہ بادشاہ ہونے کا مدعی ہےاور اس کا مقصد یہ ہے کہ روما کی حکومت کو تباہ کر دے مگر اسی روما کی حکومت کے سایہ تلے آپ نے پرورش پائی اور پھر ایک دن وہ آپ کی غلامی میں بھی داخل ہو گئی گویا آپ نے اس حکومت کو تو تباہ کیا مگر اس طرح کہ اس کا مذہب بدل دیا اور اسے عیسائی بنا لیا۔خانہ کعبہ پر حملہ کرنے والوں کی تباہی کے متعلق وہیری کے بعض اعتراضات وہیری اس جگہ لکھتا ہے کہ اس واقعہ کا مضمون کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں(تفسیر القرآن از وہیری جلد ۴ صفحہ ۲۷۹)۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حملہ آور تھے وہ مسیحی تھے جن کو قرآن کریم اہل کتاب کہتا ہے اور جو مکہ میں رہنے والے تھے وہ کافر تھے۔پس وہ کہتا ہے یہ عجیب بات ہے کہ مسلمان اسے خدا کا کلام تو کہتے ہیں مگر ان میں اتنی عقل نہیں کہ وہ یہ بے جوڑ بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ اہل کتاب کو مشرکوں کے مقابلہ میں سزا دی گئی۔وہ کہتا ہے مسلمان اس کو نشان قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ نشان نہیں بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ہتک ہے کیونکہ سزا مشرکوں کو ملنی چاہیے تھی نہ کہ اہلِکتاب کو۔