تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 358

بہرحال وہ آپ کو نبی ہی سمجھتے ہیں خدا نہیں سمجھتے(جیوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ Unitarianism )۔جب نجاشی نے کہا کہ مسلمان ٹھیک کہتے ہیں تو اس کی قوم نے شور مچا دیا کہ ٹھیک کس طرح ہے مسیحؑ اور اس کی والدہ حضرت مریم کو تو خدائی طاقتیں حاصل تھیں۔اس وقت اس نے اپنے سامنے پڑا ہوا ایک تنکا اٹھایا اور اسے اٹھا کر کہا خدا کی قسم مسیحؑ کا جو درجہ ان مسلمانوں نے بیان کیا ہے میں ایک تنکے کے برابر بھی مسیح کو اس سے زیادہ نہیں سمجھتا۔اگر تم لوگ خفا ہوتے ہو تو بے شک ہو جاؤ مجھے تمہاری پروا نہیں۔میں ابھی بچہ تھا کہ تم نے مجھ سے غداری کی مگر میرے خدا نے اس وقت مجھے تخت دیا اور تمہیں میرے مقابلہ میں ناکام و نامراد رکھا۔جس خدا نے مجھے اس وقت تخت دیا تھا جب میں بچہ تھا اس خدا سے میں اب بڑھاپے میں غداری نہیں کر سکتا اور مسیحؑ کو کوئی ایسا درجہ نہیں دے سکتا جو حقیقت کے خلاف ہو۔جس واقعہ کی طرف نجاشی نے اشارہ کیا وہ یہ تھا کہ ابھی یہ چھ سات سال کی عمر کا ہی تھا کہ اس کا باپ مر گیا اور اس کا چچا سلطنت کا سربراہ ہو کر کام کرنے لگا کچھ عرصہ کے بعد اس نے یہ دیکھ کر کہ میرا بھتیجا ابھی بہت چھوٹا ہے اور اس کے جوان ہونے میں دیر لگے گی پادریوں اور امراء کو بلا کر کہا کہ اس بچہ کے جوان ہونے تک تو ملک کی حالت بہت کمزور ہو جائے گی اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو میں اپنی بادشاہت کا اعلان کر دوں۔چونکہ اس وقت وہی برسراقتدار تھا اور نجاشی بہت چھوٹا تھا انہوں نے اس پر اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا۔ایک دن درباریوں میں سے کسی نے اپنے گھر میں یہ بات کی جو اس کے لڑکے نے بھی سن لی اور چونکہ لڑکے لڑکوں کےد وست ہوتے ہیں اس نے یہ بات نجاشی کو آکر سنا دی کہ تمہارا چچا اپنی بادشاہت کا اعلان کرنے والا ہے۔لڑکا بڑا دلیر تھا اس کا چچا کسی مہم کے لئے باہر گیا ہوا تھا جب وہ واپس آیا تو اس کے دروازہ میں داخل ہوتے ہی لڑکا تیر کمان لے کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور عین اس کے دل کی طرف تیر کھینچ کر کہنے لگا گھوڑے پر سے اتر آؤ اور بادشاہت میرے حوالے کر دو ورنہ میں ابھی تمہیں مار ڈالوں گا۔فوجی افسروں میں بھی یہ بات پھیل چکی تھی انہوں نے جب ایک چھوٹے بچے کو اس دلیری کے ساتھ کھڑا ہوتے دیکھا تو اس کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ تمام نوجوان طبقہ اسی وقت باغی ہو گیا اور نجاشی کے ساتھ مل گیا۔اس کے چچا نے جب یہ نظارہ دیکھا تو سمجھا کہ مقابلہ فضول ہے اور بادشاہت اس کے حوالے کر دی۔یہی واقعہ نجاشی نے اپنے درباریوں کو یاد دلایا اور کہا تم زیادہ سےزیادہ یہی کہہ سکتے ہو کہ ہم یہ تخت تم سے چھین لیں گے مگر جس خدا نے میری اس وقت مدد کی تھی جب میں چھوٹا بچہ تھا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اب اتنی لمبی عمر اس کے فضل اور احسان کے ماتحت گذارنے کے بعد میں اس سے غداری کروں۔یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔خدا کی تعلیم