تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 357

بنیاد رکھی گئی تھی۔مگر وہ نجاشی جس کا لشکر اس لئے آیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب میں پیدا نہ ہوں وہ آپ کی مدد کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے گویا مارنے والا بچانے والا بن جاتا ہے اور بچانے والا مارنے والا بن جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ جب مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ پہنچے اور قریش کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے دو سرداروں کو جن میں سےایک حضرت عمرو بن العاص بھی تھے جو بعد میں اسلام لے آئے اور دوسرے عبداللہ بن ربیعہ تھے حبشہ بھجوایا تاکہ نجاشی سے مل کر ان لوگوں کو مکہ میں واپس لایا جائے۔وہ اپنے ساتھ بہت کچھ تحائف لے کر حبشہ پہنچے اور انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ ہمارے کچھ غلام مکہ سے بھاگ کر آپ کے ملک میں آگئے ہیں آپ ان کو ہمارے ساتھ واپس بھجوا دیں۔نجاشی نے مسلمانوں کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔انہوں نے کہا اے بادشاہ! ہم ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا تھے۔دن رات شرابیں پیتے اور ہر قسم کے گھناؤنے اور ناجائز کاموں میں مبتلا رہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک رسول ہم میں مبعوث فرمایا اور ہم اس پر ایمان لے آئے۔اس پر ایمان لانے کی برکت سے اب ہم ایک خدا کو مانتے ہیں، جھوٹ سے پرہیز کرتے ہیں، فسق و فجور سے بچتے ہیں، ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہیں، نیک کاموں میں حصہ لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اپنی زندگی مفید کاموں میں صرف کریں۔مگر ہماری قوم کے افراد کو ہم سے اختلاف ہے اور وہ اس کی وجہ سے ہم پر ہر قسم کے مظالم کرتی ہے۔ہم نے جب اس کے مظالم کو بڑھتے ہوئے دیکھا تو ہم تیرے ملک میں پناہ لینے کے لئے آگئے۔اے بادشاہ! ہم نے سنا ہے کہ تو بڑا منصف ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے متعلق انصاف سے کام لیا جائے اور ہمیں ہماری قوم کے حوالے نہ کیا جائے۔بادشاہ نے کہا ٹھیک ہے آپ لوگ میرے ملک میں بڑی خوشی سے رہ سکتے ہیں اور اس نے قریش کو جواب دے دیا کہ میں مسلمانوں کو تمہارے ساتھ روانہ نہیں کر سکتا۔دوسرے دن انہوں نے پادریوں کو اکسایا اور کہا کہ یہ مسلمان تمہارے مسیحؑ کو گالیاں دیتے ہیں انہوں نے دربار میں شور مچا دیا کہ آپ نے ان لوگوں کو چھوڑ کیسے دیا یہ تو ہمارے دین کے سخت مخالف ہیں ان کو اپنے ملک میں ہرگز پناہ نہیں دینی چاہیے۔بادشاہ نے مسلمانوں کو پھر بلایا اور ان سے پوچھا کہ بتاؤ مسیحؑ اور ان کی والدہ حضرت مریم صدیقہ کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ انہوں نے کہا مسیحؑ کو ہم نبی سمجھتے ہیں اور حضرت مریم کو صدیقہ سمجھتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے سورۂ مریم کی کچھ آیتیں بھی پڑھ کر سنائیں جن میں ان عقائد کا ذکر آتا ہے۔بادشاہ نے کہا یہ باتیں تو ٹھیک ہیں۔نجاشی دراصل مؤحد تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ایک نشان اپنے زمانۂ بچپن میں دیکھا تھا جس کی وجہ سے وہ مؤحد ہو گیا تھا۔آج تک بھی عیسائیوں میں ایک مؤحد فرقہ پایا جاتا ہے۔وہ یہ تو سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ سب سے بڑے نبی ہیں مگر